Jasarat News:
2026-06-02@22:42:11 GMT

گل پلازہ کا سانحہ اور شہر کا خون آلود مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی، پاکستان کا معاشی دل، وہ شہر جو پورے ملک کو اپنے سینے سے لگائے کھڑا ہے، آج ایک بار پھر سازشی ہاتھوں کا شکار ہوا۔ یہ یہی کراچی ہے جو دیگر صوبوں سے آئے، ہر قومیت کے لوگوں کو اپنا پیٹ بھرنے، روزگار حاصل کرنے اور خواب سجھانے کی جگہ دیتا ہے۔ سندھی، پشتون، پنجابی، بلوچ، مہاجر سب اسی شہر کی گلیوں میں مل جل کر رہتے ہیں، محنت کرتے ہیں، اور پاکستان کو چلاتے ہیں۔ لیکن آج، اسی کراچی کو صنعتی انقلاب کے چکر میں اندھے کنویں میں دھکیل دیا جا رہا ہے۔ گل پلازہ، ہفتے کی رونقوں بھرا بازار، پلاننگ شدہ آگ میں جل کر خاکستر ہو گیا۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

ایک قیامت صغریٰ جو ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے۔ تین سو سے زائد لوگ اب بھی لاپتا ہیں، ان کے جسموں کا سراغ نہیں، ہڈیوں کا چورا بن گیا۔ یہ حادثہ نہیں، ایک منظم سازش ہے جو کراچی کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ یہ سب مختلف ہاؤسنگ اتھارٹی منصوبہ اور گرین بس کے بڑے کھیل کا حصہ ہے۔ یہ منصوبے یہاں سے چلائے جائیں گے اور ان کے لیے گل پلازہ جیسی جگہوں کو ختم کر دیا گیا۔ لاکھوں لوگوں کا روزگار اس بازار سے وابستہ تھا۔ دکاندار، مزدور، چھوٹے تاجر، سب پل بھر میں مٹ گئے۔ حاملہ خواتین جو اپنے آنے والے بچوں کی شاپنگ کرنے آئی تھیں، شادی ہونے والی لڑکیاں جن کی بارات سج رہی تھی، خوشی سے بھرے خاندان سب شعلوں میں جل کر راکھ ہو گئے۔ تصور کریں ان مائوں باپوں کا درد جو بیٹیوں کی لاشیں تلاش کر رہے ہیں، ان بیواؤں کا غم جو شوہر کی آخری مسکراہٹ بھی نہ دیکھ سکیں، اور ان یتیم بچوں کا مستقبل جو اب بھوک اور تنہائی کی زد میں ہیں۔ ہر گلی میں سوگ کی لہر دوڑ رہی ہے، ہر گھر میں آنسوؤں کی بارش ہو رہی ہے۔

ایک بوڑھا شخص جس کے تین بیٹے گل پلازہ میں نوکری کرتے تھے کہہ رہا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کراچی شہر نہیں ہے ایک جنگل ہے اور جس میں دو ہی قسم کے جانور ہیں ایک ہم جیسے غریب جن کا کوئی والی وارث نہیں اور یہ دوسرے ہمارے سیاسی حکمران، جو ہمیں چیر پھاڑ کر کھا رہے ہیں اس کی آنکھوں سے وحشت ٹپکتی تھی۔ رپورٹر نے اس سے سوال کیا۔ بوڑھے شخص نے کہا پہلے میں جناح اسپتال گیا پھر میں سول اسپتال آیا ابھی میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں میں پورے کراچی کا چکر لگا چکا لیکن مجھے اپنے بچوں کا کوئی پتا نہیں کوئی خیر خبر نہیں نہ ان کی لاشیں میں وصول کر سکا نہ ان کی باقیات مجھے ملی ہیں۔ میں کروں تو کیا کروں میں جاؤں تو کہاں جاؤں۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

ٹرانسپورٹ کا تاریخی زوال اور آج کی تباہی: ہمارے بڑوں کے دور میں یہ شہر کتنا خوبصورت تھا! ٹرامز چلتی تھیں جو صاف ستھری گلیوں میں لوگوں کو لے جاتی تھیں۔ انٹر سٹی بس کے بجائے ٹرین چلائی جاتی تھیں جو ایک شہر سے دوسرے شہر جاتیں، مسافروں کو سہولت دیتیں۔ لیکن سب منصوبے ختم کر دیے گئے۔ آج ٹریفک کا ازدہام ہے، ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی موثر انتظام نہیں۔ ای چالان کے ذریعے غریب شہریوں سے پانچ پانچ ہزار روپے کاٹے جا رہے ہیں۔ غریب آدمی کا جرم کیا؟ منی بسیں ختم کر دی گئیں، پبلک بس غائب ہو گئیں۔ اور یہ جو ریڈ بس، گرین بس، پنک بس چلائی گئیں، وہ بھی اتنی محدود ہیں کہ ساڑھے تین چار کروڑ آبادی والے کراچی میں بمشکل 15، 20، 25 بس چلتی ہیں۔ غریب شہریوں کے لیے بسیں میسر نہیں، اور اب گل پلازہ جیسے بازاروں کو بھی ختم کر دیا گیا تاکہ یہ نئے ’’بڑے‘‘ منصوبے چلیں۔ یہ ترقی نہیں، غریب کو کچلنے کی سازش ہے!

یہ پہلی بار نہیں، ہر سال اس طرح کی ’’آگ لگائی‘‘ جاتی ہے۔ ایک سانحہ، ایک بازار، ایک محلہ جلایا جاتا ہے۔ مقصد وہی ہے: کراچی کے باشندوں کو اپنے حقوق کے لیے خاموش رکھنا۔ جو لوگ چپ رہیں گے، ان کی زبان خنجر لہو پکارے گی۔

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستین
اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

ان شاء اللہ، ان شاء اللہ، شہداء کا لہو ضرور رنگ لائے گا۔ ان معصوموں کی آہیں ضرور عرش عظیم کو ہلا کر رکھ دیں گی۔ کراچی کے باشندو اب خاموش مت بیٹھو۔ یہ خاموشی نہیں، خود غرضی ہے جو ہمارے شہر کو کھا رہی ہے۔ کراچی جو پورے پاکستان کو کھانا کھلاتا ہے، اسے کیوں سزا دی جائے؟ صنعتی انقلاب کے نام پر یہ سازش کیوں؟ گرین لائن اور بس کے نام پر لاکھوں روزگار اور تاریخی ورثہ کیوں چھینے جائیں؟ خاموشی توڑو، کراچی بچاؤ!

اے کراچی والو! یہ درد ہم سب کا ہے، یہ غم ہمارا مشترکہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے خاموشی توڑنے کا۔ ان لاپتاؤں کی تلاش کریں، ذمے داروں کو بے نقاب کریں، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے حقوق کی آواز اٹھائیں، اور اپنے شہر کو بچائیں۔ گل پلازہ کی راکھ سے ایک نیا کراچی جنم لے۔ ایک ایسا شہر جہاں ٹرام واپس آئیں، بسیں سب کے لیے ہوں، ٹریفک کنٹرول ہو، اور ہر قومیت کا انسان عزت سے جئے۔

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر
لہو پکارے گا آستین کا

یہ شعلہ نہ بجھنے دو، بلکہ اسے انقلاب کی آگ بنا دو۔ عقیل عباس جعفری کی ’’نامعلوم افراد‘‘ لگتا ہے ایسے ہی منظر کی نشان دہی کرتی ہے۔

پہلے شہر کو آگ لگائیں نامعلوم افراد
اور پھر امن کے نغمے گائیں نامعلوم افراد
لگتا ہے کہ شہر کا کوئی والی نہ وارث
ہر جانب بس دھوم مچائیں نامعلوم افراد
پہلے میرے گھر کے اندر مجھ کو قتل کریں
اور پھر میرا سوگ منائیں نامعلوم افراد

اللہ ان شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے خاندانوں کو صبر دے، اور ہمیں ہمت عطا فرمائے کہ اس شہر کو بچا سکیں۔ کراچی زندہ باد، پاکستان زندہ باد!

قدسیہ ملک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نامعلوم افراد گل پلازہ تلاش کر کے لیے شہر کو رہی ہے

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے