Jasarat News:
2026-06-02@22:40:28 GMT

’’گل پلازہ آتشزدگی؛ قومی سانحہ‘‘

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو حکمرانوں اور سرکاری حکام کی بے حسی کو سب سے زیادہ عافیہ موومنٹ سے وابستہ لوگ ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ نے پہلے سے موجود افسردگی میں کئی گنا زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ ویسے بھی اس وقت حکمرانوں اور سرکاری و ریاستی اداروں کے حکام کی بے حسی کا دکھ اور تجربہ عافیہ موومنٹ سے زیادہ کسی کو نہیں ہو سکتا ہے۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست میں قید ناحق کو 23 سال مکمل ہونے والے ہیں۔ عافیہ کی رہائی اب زیادہ مشکل نہیں ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں کی طرف سے ایمائکس بریف کی حمایت کا انتظار ہے۔ عدالتی احکامات اور عدالت میں حکومت کی یقین دہانی بھی موجود ہے مگر عملی حمایت فراہم نہیں کی جارہی ہے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے نہیں ہے۔

سانحہ گل پلازہ نے ایک مرتبہ پھر اس احساس کو جگا دیا ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار کے نزدیک ایک عام پاکستانی شہری کی جان، مال، عزت و آبرو کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں کراچی میں کئی خطرناک آتشزدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں کریم آباد، آر جے شاپنگ مال اور کوآپریٹیو مارکیٹ صدر میں آگ لگنے کے واقعات شامل ہیں۔ سابقہ واقعات میں بھی کئی انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ 2012 میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ میں 289 افراد جان سے گئے تھے۔

بلا شبہ گل پلازہ آتشزدگی قومی سانحہ اور عظیم جانی و مالی نقصان ہے۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں آگ کا گرائونڈ فلور سے چوتھی منزل تک پھیل جانا معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس واقعے کو فراموش نہ کیا جائے بلکہ مستقبل میں ایسے دلخراش سانحات سے بچنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ چار گھنٹے میں جنگ جیتنے والے ملک کی انتظامیہ چوبیس گھنٹے میں 8 ہزار مربع گز پر لگنے والی آگ بجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔

کراچی ملک کا ہر لحاظ سے سب سے بڑا شہر ہے۔ کراچی آبادی، حجم اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا مگر حقیقی معنوں میں یتیم شہر ہے۔ گل پلازہ سے چند سو گز دوری پر ایک نہیں دو فائراسٹیشن موجود ہیں، ایک ایمپریس مارکیٹ اور دوسرا سول اسپتال کے نزدیک۔ مگر امدادی کارروائی ایک گھنٹے بعد شروع ہوئی، کیوں؟ جواب ایک ہی ہے کہ شہر کا بلدیاتی نظام انتہائی کمزور اور کرپٹ ہے۔ شہر کے پاس میئر تو موجود ہے مگر کارکردگی صفر ہے۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری حکام سے کسی ان دیکھی قوت نے اپنے فرائض ادا نہ کرنے کا حلف لیا ہوا ہے۔

قیاس آرائیوں سے بچنے کے لیے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔ اگر کسی ادارے نے غفلت برتی ہے تو ذمے دار افسران کے خلاف فوری طور پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ مارکیٹوں میں ضروری اور حادثات سے بچائو کے حفاظتی انتظامات بھی نہیں ہوتے ہیں۔ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کی حالت زار پر ایک عرصے سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ مگر نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہے، پتا نہیں کیوں عوام کے صبر کا امتحان لیا جارہا ہے۔

نقصانات کا صحیح صحیح تخمینہ لگایا جانا ضروری ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے سروے اور جائزے کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہیے۔ انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا ہے مگر حکومت مالی نقصان کا ازالہ تو کر سکتی ہے۔ تمام متاثرین معاوضہ کے حقدار ہیں آئندہ ایسے واقعات اور تباہی سے بچنے کے لیے شہر بھر کی مارکیٹوں میں ہنگامی بنیادوں پر فائر سیفٹی نظام نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے دکاندار اور ان کی نمائندہ یونینیں بھی ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور خود بھی اپنی اپنی مارکیٹوں کے حفاظتی نظام پر نظر رکھیں۔

محمد ایوب سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ نہیں ہے کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد