دی ہیگ کے خوبصورت ہال میں پاکستان فیسٹیول کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستان میلہ فیسٹیول انتظامیہ نے دی ہیگ کے وسیع وعریض خوبصورت ہال میں شاندار پاکستان فیسٹیول کا انعقاد کیا۔
پاکستان فیسٹیول کا افتتاح ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سید حیدر شاہ نے کیا جبکہ سفارت خانہ کے تمام افسروں نے فیملی کے ساتھ شرکت کی۔
ہالینڈ کے تمام شہروں سے پاکستانیوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
میلہ کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان سپانسرز صحافی برادری نے پاکستان فیسٹیول کو مثالی ایونٹ بنانے میں شب و روزمحنت کی۔
پاکستان فیسٹیول میں پاکستانی کھانوں اور مصنوعات کے اسٹال لگائے گئےجہاں دن بھر رش رہا۔
سفیر پاکستان سید حیدر شاہ نے پاکستان فیسٹیول کا افتتاح کیا، اس موقع پر فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
سفیر پاکستان نے اتنا شاندار پاکستان فیسٹیول آرگنائز کرنے پر انتظامیہ بلکہ ہالینڈ میں مقیم پاکستانیوں کو مبارک باد دی اور حب الوطنی کی تعریف کی۔
کمپیئرنگ کے فرائض شہزادی شمسی نے بڑے عمدگی سے ادا کیے۔ پاکستان فیسٹیول کے چیئرمین جمیل احمد نے سفارت خانہ پاکستان اور سپانسرز کا شکریہ ادا کیا ۔
پاکستان کے معروف گلو کار ابرار الحق اور عینی خالد نے موسیقی کا شاندار پروگرام پیش کیا اور ماحول کو خوب گرمایا ۔
فیسٹیول کے تمام انتظامات بڑے اچھے تھے۔ ہالینڈ کے پاکستانیوں کو ایسی تقریب بڑی دیر سے ملی، تقریب میں پاکستانیوں نے بہت انجوائے کیا ۔ پاکستان فیسٹیول میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان فیسٹیول کا میں پاکستان
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔