جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین 8 فروری کو الگ الگ یوم سیاہ منائیں گی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاج کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی، جے یو آئی (ایف) نے اس حوالے سے الگ پروگرام کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ عام انتخابات کے 2 سال مکمل ہونے پر8 فروری کو تحریک انصاف و دیگر اپوزیشن جماعتیں احتجاج کریں گے،تاہم الگ الگ اجتجاجی پروگرام کے باعث اپوزیشن ایک مشترکہ حکمت عملی تشکیل نہ دے سکی۔ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاج کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی، جے یو آئی (ایف) نے اس حوالے سے الگ پروگرام کا اعلان کیا۔ اجلاس میں تحریک تحفظ آئین نے طویل تحریک کے بجائے صرف ایک روزہ احتجاج کا فیصلہ کیا، جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ محمود اچکزئی پی ٹی آئی کو سڑکوں کی سیاست دور رکھنے کی کوشش کریں گے۔ اجلاس کے بعد محمود اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ 8 فروری کا احتجاج صرف ایک روزہ ہو گا۔ عوام حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف اور احتجاج کے اپنے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے ایک دن کیلئے پرامن تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے احتجاج میں مکمل شٹرڈاؤن شامل ہو گا جس کیلئے اپوزیشن اتحاد دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر کے پاس تعاون کیلئے جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کا احتجاج ایک آغاز ہے، اگلے مرحلے میں تحریک تحفظ آئین اپنے کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کو جیل بھرو تحریک کیلئے تیاری کی اپیل کر سکتی ہے۔ ترجمان اخوند زادہ حسین یوسف زئی نے کہا کہ انہوں نے 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال اوریوم سیاہ منانے کی کال دی ہے۔ حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ جے یو آئی (ایف) نے بھی 8 فروری کو یوم سیاہ قرار دیا ہے۔ تحریک تحفظ آئین کے احتجاج میں شمولیت پر انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کا حصہ ہیں، تاہم 8 فروری کے احتجاج پر پی ٹی آئی یا تحریک تحفظ آئین نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا، ہم الگ سے احتجاج کر رہے، تاہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں تاکہ آئین کی بالادستی پر بات چیت کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں تحریک تحفظ ا ئین انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی جے یو ا ئی فروری کو
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔