امریکا کی ایران سے نئی ڈیل کے لیے چار سخت شرائط، نیول بلاکیڈ کا امکان بھی زیرِ غور
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جوہری ڈیل کے لیے چار سخت شرائط عائد کرنا چاہتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان شرائط میں ایران سے افزودہ یورینیئم کی مکمل منتقلی، مقامی سطح پر یورینیئم کی افزودگی روکنا، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی اور خطے میں سرگرم پراکسی گروپس سے تعاون ختم کرنا شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نیول بلاکیڈ کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمتِ عملی ایران کی معیشت کو شدید دباؤ میں لانے کے لیے اختیار کی جا سکتی ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کی بنیاد پر کوئی بھی معاہدہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔ صورتحال کے پیشِ نظر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔