امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں امریکا کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑہ ابراہم لنکن خطے کی سمندری حدود میں داخل ہوچکا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس کیریئر اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، میزائل کروزر اور جدید ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم امریکی اتحادی ممالک نے فی الحال فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر زور دیا ہے۔
اس کے باوجود امریکی فوج نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی مشقیں کرنے جا رہی ہے، جن سے پہلے ہی کشیدہ ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعرات کے روز بحری بیڑے کو ایران کی سمت روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے، امریکی جنگی جہازوں کی آمد ایرانی قوم کے دفاع کو متاثر نہیں کر سکتی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون: نئے افق کی طرف راولپنڈی: فیصل ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کے خلاف سخت قانونی کارروائی، مالک کے بھائی سمیت ایک ملزم گرفتار چین کی چودہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی کوریج... ائیرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطی پہنچ گیا سری لنکا کے ہائی کمشنر کا ایل او ایل سی مائیکرو فنانس لمیٹڈ کی 88ویں شاخ کا افتتاح
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ابراہم لنکن
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔