ناصر ادیب کے سید نور اور صائمہ نور کی خفیہ شادی سے متعلق نئے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی مصنف ناصر ادیب نے فلمساز سید نور اور اداکارہ صائمہ نور کی خفیہ شادی کے بارے میں نئی تفصیلات بتا دیں۔
ناصر ادیب نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی جس میں اُنہوں نے مختلف موضوعات پر دلچسپ گفتگو کی۔
اُنہوں نے سید نور اور صائمہ نور کے خفیہ نکاح کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جب ان دونوں کے تعلقات کے بارے میں معلوم ہوا تو میں الجھن میں مبتلا ہوگیا تھا۔
ناصر ادیب نے بتایا کہ صائمہ اپنے کام سے کام رکھتی تھیں اور کسی کے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھیں اس لیے مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ ان کے سید نور کے ساتھ تعلقات کیسے ہوسکتے ہیں اور پھر میں نے ان کی شادی کی خبر سن لی۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ سید نور اور صائمہ نور کی شادی میری فلم کے ایک پروڈیوسر کرامت گجر نے کروائی تھی جو ان کے قریبی دوست تھے۔
ناصر ادیب نے بتایا کہ پوری انڈسٹری اس شادی کے خلاف ہوگئی تھی کیونکہ بہت سے ڈائریکٹرز صائمہ سے شادی کرنا چاہتے تھے، مجھے اس شادی کا سن کر کوئی دکھ نہیں ہوا تھا لیکن میں حیران تھا کہ صائمہ نے سید نور کا انتخاب کیوں کیا۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ پھر ایک دن قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہوئے میں نے ایک آیت کا ترجمہ پڑھا، ’اچھی عورتیں اچھے مردوں کے لیے ہیں اور بری عورتیں برے مردوں کے لیے‘۔
ناصر ادیب نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ صائمہ ایک پاکباز خاتون ہیں اور انہیں کوئی لالچ بھی نہیں تھا اس لیے اگر اُنہوں نے سید نور سے شادی کرنے کا انتخاب کیا ہے تو سید نور میں کچھ خوبیاں ضرور دیکھی ہوں گی۔
اُنہوں نے بتایا کہ جب میں نے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر بات سمجھ آگئی تو میں نے سید نور سے اپنی تمام رنجشیں فوراً بھلا دیں۔
ناصر ادیب نے یہ بھی کہا کہ صائمہ نور ایک سادہ سی خاتون ہیں، اُنہوں نے زیادہ دوست بھی نہیں بنائے اور نا ہی وہ کبھی کسی طرح کے اسکینڈلز میں ملوث ہوئیں، ان کا سید نور کے ساتھ صرف ایک ہی سکینڈل تھا، اب ایک سکینڈل تو ہر عورت کا حق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سید نور اور ا نہوں نے بتایا کہ کہ صائمہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔