سندھ حکومت کا نجی اسکولوں میں فائر سیفٹی لازمی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کے لیے فائر سیفٹی کے حوالے سے ہدایات نامہ جاری کر دیا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے اسکولوں میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور فائر ایکسٹنگوئشر کی تنصیب کو لازمی قرار دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔
ہدایت نامے کے مطابق اسکولوں میں ہنگامی راستے اور سیڑھیاں کھلی اور واضح رکھنا، برقی نظام کا باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی اخراج کا پلان نمایاں مقامات پر آویزاں کرنا لازمی ہے۔ سال میں کم از کم دو مرتبہ فائر ڈرلز کرانے اور اساتذہ و عملے کی فائر سیفٹی تربیت بھی لازم قرار دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ خصوصی طلبہ کے لیے حفاظتی انتظامات اور اسمبلی پوائنٹ کا تعین بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ ہدایات سانحہ گل پلازہ کراچی کے بعد جاری کی گئی ہیں تاکہ نجی تعلیمی اداروں میں آگ سے متعلق حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔