نوجوان ہنرمند اور بااختیار ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت، ہنرمندی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی درست تربیت اور رہنمائی کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ نوجوان ہنرمند اور بااختیار ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔
یہ بات انہوں نے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں یوتھ پروگرام کے مختلف منصوبوں اور بالخصوص لیپ ٹاپ اسکیم سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتیں فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے، ایسے میں نوجوانوں کو جدید علوم اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، انہیں خود کفیل بنانے اور عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
ملاقات کے دوران رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم کو یوتھ پروگرام کے تحت جاری اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لیپ ٹاپ اسکیم، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور نوجوانوں کے لیے مختلف تربیتی کورسز پر تیزی سے کام جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ان سہولتوں سے مستفید ہو سکیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یوتھ پروگرام کے تمام منصوبوں میں شفافیت، میرٹ اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے ثمرات حقیقی معنوں میں نوجوانوں تک پہنچ سکیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ تعلیم اور ہنرمندی کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا مرکزی ستون بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔ جب نوجوان باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور ہنرمند ہوں گے تو ملک خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوتھ پروگرام انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش