سندھ: پانی کے منصوبے کے لیے واٹر بورڈ کو ساڑھے 10 ارب روپے کی فراہمی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سندھ کابینہ نے لا کالجز کے بورڈ آف گورنرز میں 7 غیر سرکاری اراکین کی تقرری کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پاکستان کے فلاحی شعبے کا قائد ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
یہ بات سندھ حکومت کے ترجمان نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتائی۔
ترجمان کے مطابق لیاری ایکسپریس وے سے متاثرہ افراد کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 53 متاثرین عدالت سے رجوع کرچکے ہیں اور انہوں نے مجموعی طور پر 315 ملین روپے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
سندھ کابینہ نے واضح کیا کہ لیاری ایکسپریس وے وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا تاہم اگر دعویدار عدالت میں درست ثابت ہوتے ہیں تو سندھ حکومت کسی بھی ممکنہ طریقے سے معاوضے کی ادائیگی پر غور کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی میں پانی کا سنگین بحران
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے اس معاملے پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ سندھ کابینہ کو پیش کرے گی۔
شہر کی سڑکوں کی دگرگوں حالت پر اظہار تشویشکابینہ اجلاس میں کراچی کی سڑکوں کی خراب حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ شہر بھر میں سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔
انفراسٹرکچر مںصوبوں کی منظوروںسندھ کابینہ نے ایک اہم انفراسٹرکچر منصوبے کی بھی منظوری دی جس کے تحت 36 کلومیٹر طویل ڈملوٹی تا ڈی ایچ اے واٹر پائپ لائن منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دیا گیا ہے۔
سندھ حکومت اس منصوبے کے لیے 10.
مزید پڑھیں: کراچی کی شارع فیصل بارش کے پانی میں کیوں ڈوب جاتی ہے؟ حیران کب وجہ سامنے آگئی
ترجمان کے مطابق ایف ڈبلیو او ڈملوٹی پمپنگ اسٹیشن سے ڈی ایچ اے تک 36 کلومیٹر طویل واٹر سپلائی لائن بچھائے گی جس سے شہر میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ کابینہ سندھ کابینہ کے فیصلے کراچی کے لیے واٹر سپلائی پروجیکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ کابینہ سندھ کابینہ کے فیصلے سندھ کابینہ کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔