کچھ عناصر گل پلازہ واقعے کو سیاسی فائدے کےلیے کیش کروانا چاہتے ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جو سانحہ گل پلازہ کے بعد پہلا اجلاس تھا۔
اجلاس کے آغاز میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر کے لیے دعا کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سانحے کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور نقصان کے ازالے سے متعلق فیصلوں کی منظوری دی ہے۔
سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی بھی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور کوئی معاوضہ جان واپس نہیں لا سکتا، تاہم حکومت سندھ نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو فوری طور پر کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے اور متبادل جگہ فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ مالی نقصان کے تخمینے پر بھی بات کی گئی ہے اور حکومت سندھ روزِ اول سے تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے، جیسا کہ ماضی میں بولٹن مارکیٹ اور ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین کے ساتھ کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کی صدارت میں سینئر وزیر، وزیر قانون، صوبائی وزیر برائے بلدیات اور وزیر محنت و افرادی قوت پر مشتمل ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں فیصلے اور کارروائیاں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا اور شہداء کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ اس واقعے کے بعد مسلسل اجلاس کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فائر آڈٹ کے ساتھ ساتھ عمارات میں آتشزدگی سے بچاؤ کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مؤثر میکنزم بنایا جا رہا ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر آڈیٹرز اور اسسٹنٹ کمشنرز پر مشتمل کمیٹیاں صوبے بھر میں عمارات کا معائنہ کریں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہی بلکہ تاجروں کے جان و مال کا تحفظ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ صرف کراچی یا سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک وارننگ ثابت ہوا ہے، خاص طور پر پرانے شہروں میں جہاں اس طرح کے حفاظتی نظام موجود نہیں۔
شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض شوشہ تھا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ وزیر داخلہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ کسی کی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال اس وقت اسلام آباد میں ہیں اور انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ مجاز ہیں انہیں سکیورٹی حاصل ہے اور اگر کسی کو مزید سکیورٹی درکار ہو تو وہ حکومت کو درخواست دے، حکومت دینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے فوراً بعد منفی سیاست شروع کر دی گئی، حالانکہ اس وقت لوگ میتوں کے منتظر تھے، کچھ عناصر اس واقعے کو سیاسی فائدے کے لیے کیش کروانا چاہتے ہیں، بلدیاتی انتخابات سے بھی یہی لوگ اس لیے بھاگے کیونکہ انہیں اپنے انجام کا علم تھا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے شہداء کے گھروں پر چیک پہنچائے جا رہے ہیں اور صوبائی وزراء خود خاموشی سے لواحقین کے پاس جا کر امداد فراہم کریں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اعلیٰ سطح پر گل پلازہ سانحے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہے، اگر مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی تو عدالتی کمیشن کے قیام سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
ایک ٹی وی اینکر کی جانب سے کراچی سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ متعقہ ٹی وی چینل حکام سے اپیل کریں گے کہ متنازعہ بیان دینے والے اینکر کے خلاف دفتری انکوائری کی جائے۔
سندھ وہ صوبہ ہے جس نے پاکستان بنایا اور جس اسمبلی میں آج بات کی جا رہی ہے وہی سندھ اسمبلی تھی جس نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حافظ نعیم اور ان کی جماعت نے ہمیشہ منفی سیاست کی ہے، ان کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینا چاہئے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج سب کا جمہوری حق ہے، لیکن اگر غیر جمہوری راستہ اختیار کیا گیا، ہڑتالیں کرائی گئیں یا دکانیں جلانے کی کوشش کی گئی تو حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی کرے گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کے بعد حکومت نے لاہور سے فورنزک ٹیم طلب کی، جس سے حکومت کی نیت واضح ہوتی ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے بھی ماہرین بلائے جائیں گے، کسی حکومتی ذمہ دار نے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دیا۔
گورنر سندھ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ قابل احترام ہیں، ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تبادلے ایک معمول کا عمل ہیں اور اگر کوئی محکمہ اپنی صوابدید پر کرتا ہے تو یہ اس کا اختیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایک اور سوال حکومت سندھ کی جانب سے گل پلازہ ہیں اور کی گئی گئی ہے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔