سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جو سانحہ گل پلازہ کے بعد پہلا اجلاس تھا۔

اجلاس کے آغاز میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر کے لیے دعا کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سانحے کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور نقصان کے ازالے سے متعلق فیصلوں کی منظوری دی ہے۔

سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی بھی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور کوئی معاوضہ جان واپس نہیں لا سکتا، تاہم حکومت سندھ نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو فوری طور پر کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے اور متبادل جگہ فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ مالی نقصان کے تخمینے پر بھی بات کی گئی ہے اور حکومت سندھ روزِ اول سے تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے، جیسا کہ ماضی میں بولٹن مارکیٹ اور ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین کے ساتھ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی جانب سے  وزیر اعلیٰ سندھ کی صدارت میں سینئر وزیر، وزیر قانون، صوبائی وزیر برائے بلدیات اور وزیر محنت و افرادی قوت   پر مشتمل ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں فیصلے اور کارروائیاں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا اور شہداء کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ اس واقعے کے بعد مسلسل اجلاس کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فائر آڈٹ کے ساتھ ساتھ عمارات میں آتشزدگی سے بچاؤ کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مؤثر میکنزم بنایا جا رہا ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر آڈیٹرز اور اسسٹنٹ کمشنرز پر مشتمل کمیٹیاں صوبے بھر میں عمارات کا معائنہ کریں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہی بلکہ تاجروں کے جان و مال کا تحفظ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ صرف کراچی یا سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک وارننگ ثابت ہوا ہے، خاص طور پر پرانے شہروں میں جہاں اس طرح کے حفاظتی نظام موجود نہیں۔

شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم   کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض شوشہ تھا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ وزیر داخلہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ کسی کی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال اس وقت اسلام آباد میں ہیں اور انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ مجاز ہیں انہیں سکیورٹی حاصل ہے اور اگر کسی کو مزید سکیورٹی درکار ہو تو وہ حکومت کو درخواست دے، حکومت دینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے فوراً بعد منفی سیاست شروع کر دی گئی، حالانکہ اس وقت لوگ میتوں کے منتظر تھے، کچھ عناصر اس واقعے کو سیاسی فائدے کے لیے کیش کروانا چاہتے ہیں، بلدیاتی انتخابات سے بھی یہی لوگ اس لیے بھاگے کیونکہ انہیں اپنے انجام کا علم تھا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے شہداء کے گھروں پر چیک پہنچائے جا رہے ہیں اور صوبائی وزراء خود خاموشی سے لواحقین کے پاس جا کر امداد فراہم کریں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اعلیٰ سطح پر   گل پلازہ سانحے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہے، اگر مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی تو عدالتی کمیشن کے قیام سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

ایک ٹی وی اینکر کی جانب سے کراچی سے متعلق متنازع بیان  کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے  کہا کہ وہ  متعقہ ٹی وی چینل حکام سے اپیل  کریں گے کہ متنازعہ بیان دینے والے اینکر کے خلاف دفتری انکوائری کی جائے۔

سندھ وہ صوبہ ہے جس نے پاکستان بنایا اور جس اسمبلی میں آج بات کی جا رہی ہے وہی سندھ اسمبلی تھی جس نے قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی۔

ایک اور سوال  کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حافظ نعیم اور ان کی جماعت نے ہمیشہ منفی سیاست کی ہے،  ان کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینا چاہئے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج سب کا جمہوری حق ہے، لیکن اگر غیر جمہوری راستہ اختیار کیا گیا، ہڑتالیں کرائی گئیں یا دکانیں جلانے کی کوشش کی گئی تو حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی کرے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر  شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کے بعد حکومت نے لاہور سے فورنزک ٹیم طلب کی، جس سے حکومت کی نیت واضح ہوتی ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے بھی ماہرین بلائے جائیں گے، کسی حکومتی ذمہ دار نے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دیا۔

گورنر سندھ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ قابل احترام ہیں، ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تبادلے ایک معمول کا عمل ہیں اور اگر کوئی محکمہ اپنی صوابدید پر کرتا ہے تو یہ اس کا اختیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایک اور سوال حکومت سندھ کی جانب سے گل پلازہ ہیں اور کی گئی گئی ہے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ

(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن