مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول وفاقی وزیر ہیں لیکن زیادہ سیکیورٹی ہم نے دی ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی تردید کردی، سینیئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ مصطفی کمال اور خالد مقبول اسلام آباد میں ہیں، جس حکومت کے یہ وزیر ہیں اس سے زیادہ سیکیورٹی ہم نے دی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خالد مقبول کی سیکورٹی کے لیے 10 سپاہی ہیں، مصطفی کمال کے لیے اس سے بھی زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس کو مزید سیکیورٹی چاہئے تو وہ حکومت کو خط لکھے، گندی سیاست نہ کرے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے تھے اور ایم کیو ایم والے سیاست کررہے تھے، آگ بھی نہیں بجھی تھی اور کہا گیا 18ویں ترمیم کو ختم کرو۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے شہداء کے گھروں پر چیک پہنچائے جا رہے ہیں اور صوبائی وزراء خود خاموشی سے لواحقین کے پاس جاکر امداد فراہم کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اعلیٰ سطح پر گل پلازہ سانحے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہے، اگر مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی تو عدالتی کمیشن کے قیام سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میمن نے کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ