تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا نوٹیفکیشن کے پی حکومت اور جرگہ کی مشاورت کے بعد جاری ہوا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ برفباری کے سبب ہر سال تیراہ میں نقل مکانی ہوتی ہے، اس بار بھی نقل مکانی سے قبل کے پی حکومت اور تیراہ کے عمائدین کے درمیان کامیاب جرگہ ہوا تھا جس کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔
یہ بات وزیر دفاع نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی اور دیگر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں برف باری کی وجہ سے ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے اسی طرح تیراہ میں بھی نقل مکانی ہوتی ہے علاقے کی 65 فیصد تک آبادی نقل مکانی کرتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔
انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا
ان کا کہنا تھا کہ 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا جس میں جرگے نے صوبائی حکومت سے کامیاب مذاکرات کیے تھے، صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں چار ارب روپے کا حساب کے پی حکومت دے گی بتائے چار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ مگر یہاں تو نقل مکانی کو بحران قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرگے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ علاقے میں اسکول اور تھانے بھی قائم کیے جائیں گے جب کہ جرگے کے ارکان ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے تھے۔
معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے
وزیر دفاع نے کہا کہ کے پی حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی اور اپنی ناکامی کا ملبہ اداروں پر ڈالنا چاہتی ہے، صوبائی حکومت اور مشران کے جرگے کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، آپریشن سے متعلق مفروضے قائم کیے جارہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن جاری رہیں گے، دہشت گردوں کا ہر صورت قلع قمع کریں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آٗئی کی کتنی برس سے کے پی میں حکومت ہے اور وہ دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے۔
نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل: اسٹیٹ بینک
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت کے پی حکومت نقل مکانی حکومت اور نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔