آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ: مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے، سخت احکامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ کے لیے خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں فائر سیفٹی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے خطاب کرتے ہوئے متعدد احکامات جاری کیے۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی: سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا، عمارت کو سیل کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں 9 ڈویژن کے 1197 مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ریسکیو 1122 میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ آتشزدگی کے سدباب کے لیے جدید ترین ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹر کے استعمال کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے بڑی عمارتوں میں سموگ ڈیٹیکٹر اور سی سی ٹی وی کیمرے لگانے، فرسٹ ایڈ سہولیات اور آکسیجن سلنڈر کی موجودگی کو لازمی قرار دینے کی ہدایت دی۔ جبکہ کیمیکل، گتا، کپڑا اور سلنڈر مارکیٹس میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے اسپیشلائزڈ ٹریننگ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں ہر ملٹی اسٹوری بلڈنگ میں واٹر ہائیڈرنٹ کی تنصیب اور ایمرجنسی انخلا کے لیے عمارتوں کے بیرونی حصے میں ہوادار سیڑھیوں کو لازمی قرار دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے واٹر ہائیڈرنٹس کے نرخ لاک کرنے اور لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ سمیت گنجان علاقوں میں تجاوزات اور رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں تمام اضلاع میں ہر ماہ آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے فرضی مشقیں کرانے، نجی و سرکاری عمارتوں میں آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی اور ان کی ایکسپائری چیک کرنے کے احکامات دیے گئے، جبکہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلڈنگ سیل اور مالکان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی اقدامات پر فوری عملدرآمد شروع کرنے اور فائر سیفٹی ڈرل کو کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے کے پی آئیز میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گل پلازہ سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت سندھ، کراچی کے عوام اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں، اور پنجاب حکومت ہر قسم کی معاونت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور میں آتشزدگی کے وقت ہوٹل کی 25 منزلہ عمارت میں 300 افراد موجود تھے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ لاہور میں بڑی ٹریجڈی رونما ہونے سے بچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بروقت ایس او پیز کی تشکیل اور عملدرآمد کے باعث تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا، کیونکہ 300 افراد کا مطلب 300 خاندان ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ریسکیو ٹیموں اور ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ وہ خود پانچ منٹ میں موقع پر پہنچ گئے۔
انہوں نے کمرشل عمارتوں میں ایمرجنسی خارجی راستوں کے غلط استعمال کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور بتایا کہ آتشزدگی کے وقت ہوٹل کے بیسمنٹ میں بھی کئی افراد موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں آتشزدگی کے سدباب اور لوگوں کے بروقت انخلا کے آپریشن کی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی گئی، جبکہ منسٹر انرجی، چیف سیکریٹری اور دیگر افسران بھی فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں پوری ٹیم نے فلڈ آپریشن کی طرح ایک یونٹ بن کر کام کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ آتشزدگی سے بچاؤ کے قواعد و ضوابط کو روزانہ کی بنیاد پر فالو کرنا ہوگا اور فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد محض دکھاوے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے ریسکیو 1122 کو ایک انتہائی اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ درکار آلات، کپیسٹی بلڈنگ اور ٹریننگ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہوٹل میں تباہی قریبی فائر ہائیڈرنٹ کے آپریشنل ہونے کے باعث ٹل گئی اور آگ بجھانے کے لیے ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹر جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہوٹل مالکان سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو فی کس ایک کروڑ روپے زرِتلافی ادا کریں۔
انہوں نے کہاکہ ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی قابل تحسین ہے، رسپانس ٹائم اچھا تھا اور یہی رسپانس ٹائم پورے پنجاب میں ہونا چاہیے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کو عمارتوں کی تعمیر کے دوران سیفٹی ریگولیشنز کے نفاذ کی ہدایت دی اور کہا کہ ہر عمارت میں فائر سیفٹی آلات موجود ہی نہیں بلکہ فعال بھی ہونے چاہییں۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیاکہ بدقسمتی سے جنریٹر، تیل، پلاسٹک اور دیگر آتشزدگی کا سامان ایک ہی جگہ ذخیرہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے تمام مارکیٹوں کے داخلی و خارجی راستوں خصوصاً تجاوزات کے خاتمے، ڈپٹی کمشنرز کو انسپکشن کی تصاویر اور ویڈیوز ارسال کرنے اور ایک ماہ کے اندر کمرشل عمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹ کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ آگ بجھانے کے آلات کی ایکسپائری ڈیٹ اور فائر الارمز چیک کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ بے ہنگم لٹکتے ہوئے تار نہ صرف آتشزدگی بلکہ بارش کے دوران بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ سہ منزلہ عمارتوں کے بیسمنٹ میں بوائلرز اور آتشزدگی مواد ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ بوائلر پھٹنے سے مزدور مرتا ہے تو گویا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے، کسی مزدور کا جلنا یا مرنا قطعی برداشت نہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور آتشزدگی: مریم نواز کا بروقت کارروائی کرکے انسانی جانیں بچانے پر ریسکیو ٹیموں کو خراج تحسین
انہوں نے صوبے بھر میں سلنڈرز کی انسپکشن، غیر معیاری سلنڈر بنانے اور فروخت کرنے والے اداروں کو سیل کرنے، ہر عمارت میں آٹو میٹک اسپرنکل سسٹم کی تنصیب اور ویلڈنگ محفوظ مقامات پر کرنے کی ہدایت دی، کیونکہ ویلڈنگ کے دوران اڑنے والی چنگاریاں بھی آتشزدگی کا سبب بن سکتی ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیاکہ کمرشل عمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے، مقررہ مدت کے بعد سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آتشزدگی واقعات احکامات جاری مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا تشزدگی واقعات احکامات جاری مریم نواز وی نیوز مریم نواز شریف کرنے کی ہدایت عمارتوں میں کی ہدایت دی آتشزدگی کے فائر سیفٹی اجلاس میں تشزدگی کے میں فائر ا تشزدگی نے کہاکہ انہوں نے سے بچاؤ کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :