بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مکمل کیا۔ اس کارروائی میں انتہائی مطلوب دہشت گرد ثناء اللہ آغا سمیت 6 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ سی ٹی ڈی کے 10 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔

سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے معتبر اطلاعات موصول ہونے پر فوری ایکشن لیا گیا۔

کارروائی گزشتہ روز پیر کو شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی ہلاک ہونے والوں میں ثناء اللہ آغا، جو بھتہ خوری، قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث تھا، شامل ہے۔ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر تقریباً 15 مقدمات (ایف آئی آرز) درج تھے۔

ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ ملزمان اپنے گھروں میں نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص رشتہ دار کے مکان میں چھپے ہوئے تھےسیکیورٹی فورسز نے ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی جس پر جوابی کارروائی میں وہ اور اس کے 5 ساتھی ہلاک ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد دی گئی اور وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔

مزید پڑھیں

سی ٹی ڈی کی کوئٹہ میں کارروائی، پانچ دہشت گرد ہلاک

دہشت گردی کے خدشات، سی ٹی ڈی کے پنجاب کے مختلف شہروں میں 425 آپریشنز

کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا ہے جسے فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

 ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد کالعدم تنظیموں سے روابط رکھتے تھے اور بھتہ خوری کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ اس گروہ کے باقی ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور آپریشن جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی شاہد رند نے پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کی تعریف کی انہوں نے کہا کہ پشین میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر فوری کارروائی کی گئی اور ریاست دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی۔

یہ آپریشن بلوچستان میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا اہم حصہ ہے جس سے ایک خطرناک نیٹ ورک کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایسی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی دہشت گرد عنصر کو معافی نہیں دی جائے گی۔ علاقائی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیموں نے بھی آپریشن میں تعاون کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار