آصف زرداری کی محمد بن زید النہیان سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ابوظہبی میں ایک ملاقات میں صدر مملکت اور صدر یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر گفتگو ہوئی، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ ابوظہبی میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور صدر یو اے ای شیخ محمد بن زید النہیان کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں راہنماؤں نے دو طرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور خاتون اول آصفہ بھٹو بھی موجود تھیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر گفتگو ہوئی، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تبادلہ خیال
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔