بلوچستان حکومت نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
محکمہ مذہبی امور کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد صوبائی سیکرٹریٹ میں تعینات عملہ محکمہ نظم و نسق کو دے دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان حکومت نے صوبائی محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ صوبائی حکومت نے زکوۃ فنڈ میں موجود 4 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دے دیئے، صوبائی حکومت کے فیصلے کے بعد محکمہ مذہبی امور کی تقریباً 450 اسامیاں ختم ہو گئیں۔
محکمے کی جائیدادیں، گاڑیاں، دفاتر اور فرنیچر بورڈ آف ریونیو کو منتقل کیے جائیں گے۔ محکمہ مذہبی امور کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد صوبائی سیکرٹریٹ میں تعینات عملہ محکمہ نظم و نسق کو دے دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اضلاع میں تعینات عملہ ڈپٹی کمشنرز اور ڈویژن کا عملہ کمشنر کے سپرد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔