سعودی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، محمد بن سلمان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتا ہے اور اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
مزید پڑھیںایران سے کشیدگی کے دوران فوجی مشق؛ مشرق وسطیٰ میں امریکی لڑاکا طیاروں کی گھن گرج
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی دھمکیاں خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتیں اور یہ اقدامات علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور خطے کے امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔