Jasarat News:
2026-07-24@10:34:59 GMT

بورڈ پیس آف یا خطرے کی گھنٹی!

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیامِ امن کے نام پر جس بورڈ آف پیس کو قائم کیا ہے، اس پر دستخط سے قبل ہی انہوں نے اس کے دائرہِ کار کی توسیع کا عندیہ دے کر اپنے عزائم کا اظہار کردیا ہے، برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے بھارت کو بھی دعوت دی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ جن ممالک نے ٹرمپ کی دعوت قبول کی ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 59 ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے ہی موجود تھے۔ امریکی صدر کے بقول یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بورڈ آف پیس پر دنیا کے کئی ممالک بالخصوص یورپی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کئی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کا متبادل قرار دیتے ہوئے متوازی ادارہ بنانے کے بجائے اقوامِ متحدہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت پر واضح طور پر منقسم نظر آتی ہے، حتیٰ کہ امریکا سے قربت رکھنے والے کئی ممالک نے اس کونسل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے ’’یکطرفہ طرزِ عمل‘‘ یا اقوامِ متحدہ کے کردار پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر اس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فرانسیسی صدر کے دفتر کے مطابق، ان کے تحفظات اس امکان سے متعلق ہیں کہ کونسل کو ایسے وسیع اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں عبوری مرحلے کے انتظام سے تجاوز کر جائیں گے، جس سے اقوامِ متحدہ کا ڈھانچہ کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ ناروے، سویڈن، آئرلینڈ اور اٹلی سمیت متعدد ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلاشبہ اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے صریحاً منافی ہے۔ اس ڈھانچے میں نہ تو بورڈ کی مدتِ کار کا کوئی تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ اختیار کو صرف غزہ تک محدود رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دیگر خطوں میں بھی لاگو کیا جا سکے گا۔ امن بورڈ کی ساخت کا مکمل محور صدر ٹرمپ کی اپنی ذات معلوم ہوتی ہے، جس سے اس ادارے پر ان کے غیر معمولی ذاتی کنٹرول سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ بورڈ کے آپریشنل اخراجات، تنخواہوں کی ادائیگی اور مستقل رکنیت جیسے معاملات ایک عام تعاون کے طریقہ کار کی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے متعدد حکام نے اشارہ دیا ہے کہ امن کے اس ماڈل کو دیگر جنگ زدہ علاقوں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے متوازی یا شاید اس کے متبادل کے طور پر ایک نیا بین الاقوامی ادارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خود ٹرمپ کے تفصیلی بیانات نے بھی بورڈ کے حقیقی قیام اور قیامِ امن کے ارادوں پر شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ بورڈ بنیادی طور پر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسے ایک ایسے ادارے کی شکل دی جا رہی ہے جو خود اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بورڈ کا چارٹر صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اور وسیع اختیارات تفویض کرتا ہے، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنا، ایجنڈا کنٹرول کرنا، ارکان کا تقرر و برطرفی، بورڈ کو تحلیل کرنا اور یہاں تک کہ اپنا جانشین نامزد کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی کھلی نشاندہی ہے کہ امریکی صدر اقوام متحدہ کے متوازی ایک عالمی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اقوام متحدہ میں کسی بھی معاملے میں چین اور روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے خدشات موجود ہیں، موجودہ پیس آف بورڈ میں مکمل اختیار براہ راست ٹرمپ کے اپنے ہاتھوں میں ہوگا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو امریکا مرکز بنانا چاہتے ہیں تاکہ کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوکر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں طویل بحثوں سے بچ کر دنیا پر من مانے فیصلے مسلط اور اسرائیل کی سلامتی، دفاع اور تحفظ کو یقینی بناسکیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں شامل ہونے بورڈ ا ف پیس کا اظہار ممالک نے متحدہ کے کیا ہے دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ