Jasarat News:
2026-06-02@22:44:05 GMT

بورڈ پیس آف یا خطرے کی گھنٹی!

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیامِ امن کے نام پر جس بورڈ آف پیس کو قائم کیا ہے، اس پر دستخط سے قبل ہی انہوں نے اس کے دائرہِ کار کی توسیع کا عندیہ دے کر اپنے عزائم کا اظہار کردیا ہے، برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے بھارت کو بھی دعوت دی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ جن ممالک نے ٹرمپ کی دعوت قبول کی ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 59 ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے ہی موجود تھے۔ امریکی صدر کے بقول یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بورڈ آف پیس پر دنیا کے کئی ممالک بالخصوص یورپی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کئی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کا متبادل قرار دیتے ہوئے متوازی ادارہ بنانے کے بجائے اقوامِ متحدہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت پر واضح طور پر منقسم نظر آتی ہے، حتیٰ کہ امریکا سے قربت رکھنے والے کئی ممالک نے اس کونسل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے ’’یکطرفہ طرزِ عمل‘‘ یا اقوامِ متحدہ کے کردار پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر اس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فرانسیسی صدر کے دفتر کے مطابق، ان کے تحفظات اس امکان سے متعلق ہیں کہ کونسل کو ایسے وسیع اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں عبوری مرحلے کے انتظام سے تجاوز کر جائیں گے، جس سے اقوامِ متحدہ کا ڈھانچہ کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ ناروے، سویڈن، آئرلینڈ اور اٹلی سمیت متعدد ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلاشبہ اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے صریحاً منافی ہے۔ اس ڈھانچے میں نہ تو بورڈ کی مدتِ کار کا کوئی تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ اختیار کو صرف غزہ تک محدود رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دیگر خطوں میں بھی لاگو کیا جا سکے گا۔ امن بورڈ کی ساخت کا مکمل محور صدر ٹرمپ کی اپنی ذات معلوم ہوتی ہے، جس سے اس ادارے پر ان کے غیر معمولی ذاتی کنٹرول سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ بورڈ کے آپریشنل اخراجات، تنخواہوں کی ادائیگی اور مستقل رکنیت جیسے معاملات ایک عام تعاون کے طریقہ کار کی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے متعدد حکام نے اشارہ دیا ہے کہ امن کے اس ماڈل کو دیگر جنگ زدہ علاقوں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے متوازی یا شاید اس کے متبادل کے طور پر ایک نیا بین الاقوامی ادارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خود ٹرمپ کے تفصیلی بیانات نے بھی بورڈ کے حقیقی قیام اور قیامِ امن کے ارادوں پر شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ بورڈ بنیادی طور پر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسے ایک ایسے ادارے کی شکل دی جا رہی ہے جو خود اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بورڈ کا چارٹر صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اور وسیع اختیارات تفویض کرتا ہے، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنا، ایجنڈا کنٹرول کرنا، ارکان کا تقرر و برطرفی، بورڈ کو تحلیل کرنا اور یہاں تک کہ اپنا جانشین نامزد کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی کھلی نشاندہی ہے کہ امریکی صدر اقوام متحدہ کے متوازی ایک عالمی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اقوام متحدہ میں کسی بھی معاملے میں چین اور روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے خدشات موجود ہیں، موجودہ پیس آف بورڈ میں مکمل اختیار براہ راست ٹرمپ کے اپنے ہاتھوں میں ہوگا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو امریکا مرکز بنانا چاہتے ہیں تاکہ کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوکر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں طویل بحثوں سے بچ کر دنیا پر من مانے فیصلے مسلط اور اسرائیل کی سلامتی، دفاع اور تحفظ کو یقینی بناسکیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں شامل ہونے بورڈ ا ف پیس کا اظہار ممالک نے متحدہ کے کیا ہے دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت