Jasarat News:
2026-07-24@10:37:43 GMT

وادی تیراہ: برف، خاموشی اور ریاست کا امتحان

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اے برف سے ڈھکی ہوئی راہوں پر چلتے قافلو! تمہاری خاموشی خود ایک گواہی ہے۔ یہ سردی محض موسم نہیں، یہ اس ظلم کی شدت ہے جو انسان کو اس کے گھر سے نکال کر پہاڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ کمزور کندھوں پر بوجھ ہیں، ننھے ہاتھ سردی سے کانپ رہے ہیں، اور بوڑھی آنکھوں میں ایسے سوال ہیں جن کا کوئی جواب ریاست کے پاس نہیں۔ یہ منظر کسی سرحدی جنگ یا دشمن کے حملے کا نہیں۔ یہ اپنے ہی لوگوں، ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے مکینوں کی جبری بے گھری کا منظر ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس نہ اختیار ہے نہ آواز۔ جن کے گھروں کی دہلیزیں طاقت کے فیصلوں تلے روند دی گئیں۔ جن سے کہا گیا کہ ’’یہ علاقہ خالی کرو‘‘— مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاؤ گے، کیسے جیو گے، اور کون تمہاری ذمے داری لے گا۔

وادی تیراہ سے ہزاروں افراد کی جبری نقل مکانی اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ ایک بڑا انسانی بحران بن چکی ہے۔ ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر یہ لوگ اپنے آبائی گھروں، کھیتوں، مویشیوں، یادوں اور قبروں کو چھوڑنے پر مجبور کیے گئے ہیں۔ خوف ایک طرف، مگر انتظامی نااہلی نے اس کرب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو سفر عام حالات میں ساڑھے تین گھنٹوں میں طے ہو جاتا تھا، وہ اب چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہو رہا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی لامتناہی قطاریں، رینگتی ہوئی ٹریفک، تھکے ہارے مسافر، بھوکے پیاسے بچے اور پریشان حال خواتین— یہ سب کسی بھی حساس انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس بحران کے مقابلے میں ریاست کہاں کھڑی ہے؟

پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کی تیاریاں زمینی حقائق کے سامنے انتہائی ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔ ہزاروں متاثرین کے لیے محض ایک رجسٹریشن پوائنٹ، نہ مناسب رہنمائی، نہ واضح منصوبہ بندی۔ خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولتیں اور صفائی کے انتظامات یا تو موجود ہی نہیں، یا محض بیانات تک محدود ہیں۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے واش رومز کی عدم موجودگی ایک شرمناک حقیقت ہے، جسے کسی بھی مہذب ریاست میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معاملہ محض انتظامی غفلت نہیں رہتا، بلکہ ریاستی ترجیحات پر سوال بن جاتا ہے۔ ریاست اگر ماں ہوتی ہے تو یوں اپنے بچوں کو برف میں ننگے پاؤں نہ چھوڑتی۔ ریاست اگر ذمے دار ہوتی تو پہلے انتظامات کرتی، پھر فیصلے نافذ کرتی۔

اسی پس منظر میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما پروفیسر ابراہیم کا مؤقف نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔ ان کے مطابق وادی تیراہ سے جبری نقل مکانی ناقابلِ قبول ہے اور کسی بھی ممکنہ سیکورٹی اقدام سے پہلے شہری آبادی کے انسانی حقوق، عزت اور وقار کو مقدم رکھنا آئینی اور اخلاقی ذمے داری ہے۔ پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر نقل مکانی ناگزیر بھی ہو تو اسے آخری چارہ ہونا چاہیے، نہ کہ پہلا اور آسان حل۔ ان کا مؤقف ہے کہ متاثرین کو سڑکوں پر چھوڑ دینا، ایک آدھ رجسٹریشن پوائنٹ قائم کر کے ذمے داری سے سبکدوش ہو جانا، ریاستی ناکامی کی علامت ہے۔ جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ نقل مکانی سے پہلے مکمل تیاری، شفاف منصوبہ بندی اور عوامی اعتماد کو یقینی بنایا جائے۔ خوراک، صاف پانی، طبی سہولتیں، عارضی مگر باوقار رہائش، اور خصوصاً خواتین و بچوں کے لیے محفوظ سہولت ریاست کی اوّلین ذمے داری ہیں، کوئی احسان نہیں۔ پروفیسر ابراہیم کے مطابق مسئلے کا حل طاقت یا عجلت میں نہیں، بلکہ انصاف، مشاورت اور انسان دوستی میں ہے۔ مقامی آبادی کو فیصلوں میں شامل کیے بغیر کیے گئے اقدامات نہ صرف بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں بلکہ مسائل کو مزید الجھا دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس امر پر زور دیتی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو باعزت واپسی کی تحریری ضمانت دی جائے اور ہونے والے نقصانات کا منصفانہ ازالہ کیا جائے۔

یہ بات بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ تیراہ کے یہ باسی کسی دشمن ملک کے شہری نہیں۔ یہ اسی ریاست کے شہری ہیں جن کے نام پر حب الوطنی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جن کے بچوں کو نصاب میں قربانی اور وفاداری کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں۔ مگر جب امتحان کا وقت آیا تو انہیں برف، بھوک اور بے یقینی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ خاموشی یہاں بھی جرم بن جاتی ہے، اور سوال اٹھانا گستاخی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں اپنے ہی عوام کے دکھ پر خاموش رہیں، وہ بالآخر اپنے اخلاقی جواز سے محروم ہو جاتی ہیں۔ تیراہ کا مسئلہ محض سیکورٹی نہیں، یہ انسانی، آئینی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔

فوری طور پر ضروری ہے کہ: متعدد رجسٹریشن اور سہولت مراکز قائم کیے جائیں۔ خوراک، صاف پانی اور طبی ٹیمیں سڑکوں اور کیمپوں میں موجود ہوں۔ خواتین اور بچوں کے لیے علٰیحدہ، محفوظ اور صاف سہولتیں فراہم کی جائیں۔ نقل مکانی کے عمل کو مرحلہ وار اور منظم بنایا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، متاثرین کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ بے دخلی مستقل نہیں۔ آخر میں، یہ صرف ایک خطے یا ایک قومیت کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاست کے کردار کا امتحان ہے۔ اے اللہ! تو سب دیکھ رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ کس نے حکم دیا اور کس نے دروازے بند کیے۔ جنہوں نے مظلوموں کو شدید سردی میں اپنے گھروں سے نکالا، ان کے غرور کو توڑ دے۔ ان کے ظلم کو انجام تک پہنچا دے۔ مظلوموں کو صبر نہیں، انصاف عطا فرما۔ انہیں لوٹنے کا حق دے، انہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق دے۔ آمین۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وادی تیراہ نقل مکانی کے لیے

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک