Jasarat News:
2026-06-02@22:43:56 GMT

وادی تیراہ: برف، خاموشی اور ریاست کا امتحان

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اے برف سے ڈھکی ہوئی راہوں پر چلتے قافلو! تمہاری خاموشی خود ایک گواہی ہے۔ یہ سردی محض موسم نہیں، یہ اس ظلم کی شدت ہے جو انسان کو اس کے گھر سے نکال کر پہاڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ کمزور کندھوں پر بوجھ ہیں، ننھے ہاتھ سردی سے کانپ رہے ہیں، اور بوڑھی آنکھوں میں ایسے سوال ہیں جن کا کوئی جواب ریاست کے پاس نہیں۔ یہ منظر کسی سرحدی جنگ یا دشمن کے حملے کا نہیں۔ یہ اپنے ہی لوگوں، ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے مکینوں کی جبری بے گھری کا منظر ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس نہ اختیار ہے نہ آواز۔ جن کے گھروں کی دہلیزیں طاقت کے فیصلوں تلے روند دی گئیں۔ جن سے کہا گیا کہ ’’یہ علاقہ خالی کرو‘‘— مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاؤ گے، کیسے جیو گے، اور کون تمہاری ذمے داری لے گا۔

وادی تیراہ سے ہزاروں افراد کی جبری نقل مکانی اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ ایک بڑا انسانی بحران بن چکی ہے۔ ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر یہ لوگ اپنے آبائی گھروں، کھیتوں، مویشیوں، یادوں اور قبروں کو چھوڑنے پر مجبور کیے گئے ہیں۔ خوف ایک طرف، مگر انتظامی نااہلی نے اس کرب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو سفر عام حالات میں ساڑھے تین گھنٹوں میں طے ہو جاتا تھا، وہ اب چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہو رہا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی لامتناہی قطاریں، رینگتی ہوئی ٹریفک، تھکے ہارے مسافر، بھوکے پیاسے بچے اور پریشان حال خواتین— یہ سب کسی بھی حساس انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس بحران کے مقابلے میں ریاست کہاں کھڑی ہے؟

پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کی تیاریاں زمینی حقائق کے سامنے انتہائی ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔ ہزاروں متاثرین کے لیے محض ایک رجسٹریشن پوائنٹ، نہ مناسب رہنمائی، نہ واضح منصوبہ بندی۔ خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولتیں اور صفائی کے انتظامات یا تو موجود ہی نہیں، یا محض بیانات تک محدود ہیں۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے واش رومز کی عدم موجودگی ایک شرمناک حقیقت ہے، جسے کسی بھی مہذب ریاست میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معاملہ محض انتظامی غفلت نہیں رہتا، بلکہ ریاستی ترجیحات پر سوال بن جاتا ہے۔ ریاست اگر ماں ہوتی ہے تو یوں اپنے بچوں کو برف میں ننگے پاؤں نہ چھوڑتی۔ ریاست اگر ذمے دار ہوتی تو پہلے انتظامات کرتی، پھر فیصلے نافذ کرتی۔

اسی پس منظر میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما پروفیسر ابراہیم کا مؤقف نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔ ان کے مطابق وادی تیراہ سے جبری نقل مکانی ناقابلِ قبول ہے اور کسی بھی ممکنہ سیکورٹی اقدام سے پہلے شہری آبادی کے انسانی حقوق، عزت اور وقار کو مقدم رکھنا آئینی اور اخلاقی ذمے داری ہے۔ پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر نقل مکانی ناگزیر بھی ہو تو اسے آخری چارہ ہونا چاہیے، نہ کہ پہلا اور آسان حل۔ ان کا مؤقف ہے کہ متاثرین کو سڑکوں پر چھوڑ دینا، ایک آدھ رجسٹریشن پوائنٹ قائم کر کے ذمے داری سے سبکدوش ہو جانا، ریاستی ناکامی کی علامت ہے۔ جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ نقل مکانی سے پہلے مکمل تیاری، شفاف منصوبہ بندی اور عوامی اعتماد کو یقینی بنایا جائے۔ خوراک، صاف پانی، طبی سہولتیں، عارضی مگر باوقار رہائش، اور خصوصاً خواتین و بچوں کے لیے محفوظ سہولت ریاست کی اوّلین ذمے داری ہیں، کوئی احسان نہیں۔ پروفیسر ابراہیم کے مطابق مسئلے کا حل طاقت یا عجلت میں نہیں، بلکہ انصاف، مشاورت اور انسان دوستی میں ہے۔ مقامی آبادی کو فیصلوں میں شامل کیے بغیر کیے گئے اقدامات نہ صرف بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں بلکہ مسائل کو مزید الجھا دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس امر پر زور دیتی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو باعزت واپسی کی تحریری ضمانت دی جائے اور ہونے والے نقصانات کا منصفانہ ازالہ کیا جائے۔

یہ بات بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ تیراہ کے یہ باسی کسی دشمن ملک کے شہری نہیں۔ یہ اسی ریاست کے شہری ہیں جن کے نام پر حب الوطنی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جن کے بچوں کو نصاب میں قربانی اور وفاداری کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں۔ مگر جب امتحان کا وقت آیا تو انہیں برف، بھوک اور بے یقینی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ خاموشی یہاں بھی جرم بن جاتی ہے، اور سوال اٹھانا گستاخی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں اپنے ہی عوام کے دکھ پر خاموش رہیں، وہ بالآخر اپنے اخلاقی جواز سے محروم ہو جاتی ہیں۔ تیراہ کا مسئلہ محض سیکورٹی نہیں، یہ انسانی، آئینی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔

فوری طور پر ضروری ہے کہ: متعدد رجسٹریشن اور سہولت مراکز قائم کیے جائیں۔ خوراک، صاف پانی اور طبی ٹیمیں سڑکوں اور کیمپوں میں موجود ہوں۔ خواتین اور بچوں کے لیے علٰیحدہ، محفوظ اور صاف سہولتیں فراہم کی جائیں۔ نقل مکانی کے عمل کو مرحلہ وار اور منظم بنایا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، متاثرین کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ بے دخلی مستقل نہیں۔ آخر میں، یہ صرف ایک خطے یا ایک قومیت کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاست کے کردار کا امتحان ہے۔ اے اللہ! تو سب دیکھ رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ کس نے حکم دیا اور کس نے دروازے بند کیے۔ جنہوں نے مظلوموں کو شدید سردی میں اپنے گھروں سے نکالا، ان کے غرور کو توڑ دے۔ ان کے ظلم کو انجام تک پہنچا دے۔ مظلوموں کو صبر نہیں، انصاف عطا فرما۔ انہیں لوٹنے کا حق دے، انہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق دے۔ آمین۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وادی تیراہ نقل مکانی کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل  جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔

یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد