اسپین: 5 لاکھ خلاف قانون تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسپین نے 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینےکا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن ایلماسیز کا کہنا تھا کہ حکومت ایک حکم کی منظوری دینے جارہی ہے جس کے تحت تقریباً 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ قانونی حیثیت حاصل کرنے والےتارکین وطن کی تعداد کم یا زیادہ بھی ہوسکتی ہے، اس فیصلے سے مستفید ہونے والے افرادملک کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے۔
ایلماسیز کا کہنا تھا کہ حکومت امیگریشن کا نظام ایسا بنانے جارہی ہے جو انسانی حقوق، معاشرے میں شمولیت، باہمی ہم آہنگی، معاشی ترقی اور سماجی اتحاد کے مطابق ہو۔
یہ اقدام یورپ کے دیگر حصوں میں سخت پالیسیوں کے برعکس اسپین کا تازہ فیصلہ ہے۔
اس فیصلے سے وہ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جو کم از کم 5 ماہ سے اسپین میں رہ رہے ہیں۔درخواست دینے والوں کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہوگا، یہ فیصلہ ان کے ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں۔
اس حوالے سے درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور جون کے آخر تک جاری رہےگا۔
خبرایجنسی کے مطابق اس منصوبے کو ایک سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری نہیں ہوگی، کیونکہ سوشلسٹ قیادت والی اتحادی حکومت کے پاس وہاں اکثریت نہیں ہے۔
قدامت پسند اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوگا۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ اسپین کو افرادی قوت کی کمی پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔
تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق جنوری 2025 کے آغاز میں اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی تارکین وطن مقیم تھے، جن میں زیادہ تر لاطینی امریکی تھے۔
ہسپانوی قومی ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسپین کی 4 کروڑ 94 لاکھ کی کل آبادی میں سے 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجرین ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔