بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج، دیر میں لینڈ سلائیڈنگ سے کئی مسافر پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
دیر بالا کے مقام گوالدی میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی گاڑیاں مسافروں سمیت پھنس گئیں، وام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومتی مشینری غائب ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ مغربی سسٹم کے تحت ملک کے میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا جبکہ شدید سردی سے درجہ حرارت مزید گر گیا۔ دیر بالا کے مقام گوالدی میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی گاڑیاں مسافروں سمیت پھنس گئیں، وام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومتی مشینری غائب ہوگئی۔ دیر بالا شرینگل فارسٹ کالونی کے مقام پر فیلڈر گاڑی برفباری میں پھسل کر کھائی میں جا گری جس کے سبب 3 افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پشاور شہر اور گردونواح میں کل شامل سے شروع ہونے والی بارش آج صبح رک گئی تھی تاہم کچھ وقفے کے بعد بارش دوبارہ شروع ہوگئی جس کے سبب سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں بھی کل رات سے وقفے وقفے سے بارش جاری ہے جبکہ بالائی علاقوں و پہاڑوں پر موسم سرما کی برفباری کا تیسرا اسپیل جاری ہے۔ چترال شہر اور مضافات میں دوبارہ ہلکی برفباری کا سلسلہ جاری ہے، چار دن قبل چترال میں برفباری کے بعد یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ لواری ٹنل ایریا، کالاش ویلیز، مڈک لشٹ اور گرم چشمہ میں گزشتہ رات سے برفباری جاری جبکہ اپر چترال میں شندور، لاسپور اور یارخون میں برفباری ہو رہی۔ لواری ٹنل روڈ پر برفباری کے دوران بھی سنو کلیئرنس سے ٹریفک حسب معمول جاری ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے لواری ٹنل ایریا میں گاڑیوں کو سنو چین کے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چترال میں برفباری سے سردی مزید بڑھ گئی جبکہ لوگوں کو تاپنے کے لیے جلانے کی لکڑی کی مانگ بڑھ گئی جس کے باعث لکڑی کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چترال میں لکڑی فروخت کرنے والے منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ اور بالائی علاقوں میں رات سے شروع ہونے والی برفباری اب بھی جاری ہے۔ میدانی علاقوں بشمول مینگورہ شہر اور مضافات میں بارش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پہاڑوں پر برفباری سے سردی کی شدت میں بے حد اضافہ ہوگیا۔ لوئر دیر کے شہری علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں پر شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔
وادی کمراٹ، جہاز بانڈہ، باڈگوائی، لواری ٹنل، کلپانی، شاہی بن شاہی، لاجبوک، عشیرئی، درہ طور، منگ درہ، لڑم سمیت دیگر بالائی علاقوں پر کئی فٹ تک برف باری ریکارڈ کی گئی۔ برف باری سے بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند پڑی ہیں۔ چترال کے بالائی علاقوں کی سڑکیں برف باری کی وجہ سے بند پڑی ہیں، ۔سڑکوں کی بندش سے شہری گھروں میں محصور ہوگئے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ برف باری کی وجہ سے دیر لوئر، اپر دیر اور چترال کے مختلف علاقوں میں بجلی کی کھمبے گر گئے جس کی وجہ سے مختلف علاقوں کی بجلی منقطع ہوگئی۔ دیر لوئر میں بارش و برف باری کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور بازاروں میں رش نہ ہونے کے برابر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشکلات کا سامنا ہے بالائی علاقوں علاقوں میں چترال میں لواری ٹنل کی وجہ سے جاری ہے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔