پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے امریکا سے خام تیل کی تاریخی درآمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت کے طور پر سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ نے امریکا سے 6 ملین بیرل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل درآمد کرنے کا 430 ملین ڈالرز کا تجارتی معاہدہ کیا ہے، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان نجی شعبے کا سب سے بڑا خام تیل درآمدی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت 3 ملین بیرل خام تیل پہلے ہی سینرجیکو کی ریفائنری میں پروسیس کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی 3 کارگو رواں سال فروری اور مارچ 2026 میں پاکستان پہنچیں گے، جس سے ملک میں تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
یہ معاہدہ بغیر کسی سرکاری ضمانت یا حکومتی مالی معاونت کے ہوا ہے، جس سے قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑا اور نجی شعبے کے ذریعے تجارتی خسارے میں کمی میں مدد ملی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
سینرجیکو کی سنگل بوائے مورنگ سہولت کے ذریعے ویری لارج کروڈ کیریئرز سے براہِ راست تیل اتارا جاتا ہے اور زیرِسمندر پائپ لائن کے ذریعے ریفائنری تک پہنچایا جاتا ہے، جو امریکا اور افریقہ جیسے دور دراز ممالک سے تیل کی درآمد آسان اور کم خرچ بناتا ہے۔
سینرجیکو کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے کہا کہ نجی شعبہ قومی معاشی اہداف کے حصول میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، امریکا سے خام تیل کی درآمد تجارتی خسارہ کم کرنے، توانائی کے ذرائع میں تنوع بڑھانے اور معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور اقتصادی دباؤ کے تناظر میں نجی شعبے کے اس قسم کے اقدامات توانائی کے تحفظ، معاشی استحکام اور برآمدات کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توانائی کے کے ذریعے خام تیل تیل کی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے