الیکٹرک گاڑیوں کیلئےچارجنگ پوائنٹس کےحوالےسےاچھی خبر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سٹی42: لاہور میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے اچھی خبر ، ٹریفک پولیس نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں چار مقامات پر الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف ٹریفک پولیس کی الیکٹرک گاڑیاں بلکہ شہری بھی اپنی گاڑیاں چارج کر سکیں گے۔
سی ٹی او لاہور طاہر وحید کے مطابق چارجنگ پوائنٹس ڈیفنس، جیل روڈ، رائیونڈ اور شاہدرہ میں بنائے جائیں گے۔ ٹریفک پولیس کو پہلے ہی 10 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ مزید 50 الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ کی گئی ہے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
مزید برآں، 45 سیکٹر انچارجز اور 15 سرکل افسران کو الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 الیکٹرک گاڑیوں
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔