گل پلازا واقعے کی انکوائری رپورٹ اطمینان بخش نہ ہوئی تو جوڈیشل انکوائری کروائیں گے: شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن—فائل فوٹو
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ گل پلازا واقعے پر انکوائری رپورٹ کسی بھی وقت آ سکتی ہے، اگر انکوائری رپورٹ اطمینان بخش نہ ہوئی تو فوراً جوڈیشل انکوائری کرائیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں جسے بھی ذمے دار نامزد کیا گیا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔
شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت گل پلازا کو دوبارہ تعمیر کرنے جا رہی ہے، گل پلازا میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں، تعمیر میں کم از کم 2 سال لگیں گے۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جولوگ اپنے قائد کے کہنے پر شہر بند کرواتے تھے ،اُن کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی چیمبر حکومت کے ساتھ مل کر مارکیٹ ایسوسی ایشن سے ایس او پیز پر بات کر رہی ہے، جہاں ایس او پیز مکمل نہیں ہوں گی، ان مارکیٹوں کو بند کر دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ تاجروں کو قریبی پلازوں کی دکانوں میں شفٹ کیا جائے گا، ہمارا پہلا مقصد لوگوں کی جانیں بچانا اور تاجروں کی بحالی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے کہنے پر گل پلازا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔