مراد علی شاہ، شرجیل میمن،مرتضیٰ وہاب مستعفی ہوں، فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
گل پلازہ سانحے سے توجہ ہٹا نے نہیں دیں گے، آپ سیکیورٹی واپس لیں،مقدمات بنائیں
ایم کیو ایم کاسانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ ،پریس کانفرنس
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیراطلاعات اور میٔر کراچی تینوں کو مستعفی ہونا چاہیے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ سے گل پلازہ کے حوالے سے سوالات کیے جارہے ہیں، سوالات پر وزیراعلیٰ، مئیر کراچی اور شرجیل میمن جھنجھلاہٹ کا شکار ہورہے ہیں، 18 سال سے اقتدار نشے میں ہیں، ضد اور انا کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی کو گل پلازہ سانحے سے توجہ ہٹا نے نہیں دیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہونا چاہیے، ہم اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، آپ ہماری سیکیورٹی واپس لیں اور آپ مقدمات بنائیں لیکن اب ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ گل پلازہ کے شہدا کو انصاف دلا کر رہیں گے، شرجیل میمن کہہ رہے ہیں کہ کسی کے کہنے پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے، تو آپ خود بنالیں، 18 سال سے آپ کا تمام اداروں پر قبضہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی سے تحقیقات کرائیں گے تو کس طرح قبول کریں گے، خالد مقبول صدیقی سمیت ایم کیو ایم کے تمام لوگوں کی سیکیورٹی واپس لے لی جبکہ سیکیورٹی اداروں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جان کو خطرہ ہے، ہماری سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے رہے ہیں تو کیا اسلام آباد کی پولیس ہمیں سیکیورٹی دے گی۔فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے لوگ ڈمپر اور ٹرالر سے مار جا رہے ہیں، اسٹریٹ کرائم اور گٹر میں گر کر بچے جان سے جا رہے ہیں، جب آپ شہریوں کو تحفظ ہی فراہم نہیں کررہے تو آرٹیکل 141 کے تحت کراچی کو وفاق کے حوالے کردیں۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے کہا کہ کراچی 4 کروڑ کی آبادی کا شہر ہے، گنتی کے حساب سے حکومت سندھ ذمہ داریاں پوری کر رہی، تو آپ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں ہے، کراچی کے حوالے سے تو کوئی فیصلہ کریں، بلاول بھٹو سے ڈیڑھ سال سے وقت مانگ رہا ہوں لیکن وہ وقت ہی نہیں دے رہے ہیں۔ایم کیو ایم کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی مستعفی ہوں اور حکومت سندھ خود دستبردار ہو کیونکہ آپ کے عمل سے لگتا ہے آپ کراچی کو ڈس اون کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ ہمارے پاس موجود ہے، گل پلازہ آپ کو نہیں چھوڑے گا، آپ کراچی سے خود دستبردار ہو رہے ہیں اور یہ آپ اپنے عمل سے بتا رہے ہیں، آپ کراچی کو ڈس اون کر رہے ہیں،ہمیں ڈس اون کررہے ہیں تو ہمیں پھر کوئی تو اون کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان تینوں سے استعفی نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ بلاول بھٹو سے کہہ رہے ہیں کہ آپ ان سے استعفیٰ لیں، وزیراطلاعات اپنی مرضی سے جوڈیشل کمیشن بنالو لیکن بنا تو لو کچھ لوگوں کی سیکیورٹی واپس کردی لیکن جنہیں نہیں کی انہیں بھی واپس کریں ورنہ ہم اسلام آباد سے کہیں گے۔فاروق ستار نے کہا کہ ہم بلاول بھٹو سے کئی امور اور سندھ کے عوام کے حق کے لیے ملنا چاہتے ہیں، اگر ہم قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایوان میں موجود ہیں اور آپ ہمیں نہیں مان رہے تو ہمیں وفاق سے بولنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ شرافت سے جوڈیشل کمیشن بنائیں، یہ نہیں کیا تو تمہارا گھمنڈ پارا پارا ہوگا اور اس کا وقت آگیا ہے، 72 گھنٹے ہم نے کوئی سوال نہیں کیا، لوگوں اور میڈیا نے سوال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی فرانزک لیب کی صرف عمارت ہے جو اربوں کا منصوبہ ہے، عمارت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، عمارت کے لیے 8 ارب خرچ کردیے گئے ۔جامعہ کراچی میں اساتذہ نے اپنی چھوٹی موٹی لیب بنا لی ان سے ہی کچھ سیکھ لو۔ فاروق ستار نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) فارغ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی واپس فاروق ستار نے جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم ا پ کراچی کے حوالے کہ کراچی کراچی کو گل پلازہ رہے ہیں اون کر
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔