ملتان PSL فرنچائز کے لیے آخری موقع، نیا دور شروع ہونے والا ہے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے مداحوں اور سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا ہے کہ HBL PSL فرنچائز حاصل کرنے کا ایک نایاب موقع قریب آ رہا ہے اور اسے ضائع نہ کیا جائے۔
The clock is ticking, don't miss the train! Another rare opportunity to own a HBL PSL Franchise awaits. Last date to submit technical proposals for Multan is Jan 30, 2026.
The #NewEra beckons!#HBLPSL#Multan
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) January 28, 2026
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی ٹوئٹ میں آگاہ کیا ہے کہ ’وقت تیزی سے گزر رہا ہے، موقع ضائع نہ کریں!‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ملتان کے لیے HBL PSL فرنچائز حاصل کرنے کا ایک اور نایاب موقع موجود ہے۔ تکنیکی تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جنوری 2026 ہے۔ نیا دور شروع ہونے والا ہے!‘
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی
چیئرمین پی سی بی نے اس موقع پر زور دیا کہ دلچسپی رکھنے والے افراد بروقت اپنی تکنیکی تجاویز جمع کرائیں تاکہ وہ فرنچائز حاصل کرنے کے اہل بن سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ایس ایل چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ملتان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ملتان محسن نقوی پی سی بی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔