بی جے پی آسام میں مسلمانوں کو نشانہ بناکر تقسیم کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، رقیب الدین احمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کانگریس کے اس رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ کانگریس نے اس پورے معاملے کی جامع اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے رکنِ اسمبلی رقیب الدین احمد نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برسرِ اقتدار جماعت آسام میں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر تقسیم کرنے والی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ بوکو–چایگاؤں سب ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سنگین اعتراض درج کراتے ہوئے رقیب الدین احمد نے اسے جمہوری نظام کے لئے خطرناک قرار دیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس سیاسی بیان بازی پر تنقید کی، جسے انہوں نے مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کے مقصد سے چلایا جا رہا ایک منظم مہم بتایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں مختلف نسلی، مذہبی اور لسانی برادریوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی (Coexistence) کی ایک طویل روایت رہی ہے اور کسی ایک برادری کو نشانہ بنانے کی کوششیں ریاست کے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
کانگریس کے اس رکنِ اسمبلی نے زبان کو قومیت سے جوڑنے کے رجحان کی بھی مخالفت کی اور بنگالی زبان بولنے والوں کو بنگلہ دیشی قرار دینے کے دعوؤں کو سراسر بے بنیاد بتایا۔ انہوں نے کہا کہ تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام کے کئی حصوں، جن میں ہوجائی بھی شامل ہے، میں بنگالی زبان بولی جاتی ہے اور صرف زبان کی بنیاد پر کسی فرد کو باہر والا یا غیر ملکی کہنا نہ تو درست ہے اور نہ ہی آئینی اقدار کے مطابق ہے۔ رقیب الدین احمد نے الزام لگایا کہ بی جے پی انتخابی فائدے کے لئے جان بوجھ کر ذات، مذہب اور برادری کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہی ہے، جبکہ کانگریس نے کبھی اس طرح کی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ اور شبہات پر مبنی سیاست نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ سماجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
کانگریس کے رکنِ اسمبلی نے اس معاملے کو وسیع تناظر میں رکھتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ سینیئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے پہلے لگائے گئے ووٹوں میں ہیرا پھیری کے الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے تشویشناک ہے۔ رقیب الدین احمد نے بتایا کہ کانگریس نے اس پورے معاملے کی جامع اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی اس مسئلے کو مسلسل اٹھاتی رہے گی اور انتخابات کو غیر منصفانہ یا غیر قانونی طریقوں سے متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رقیب الدین احمد نے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہی ہے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔