ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری میں تعاون کے الزامات پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا موقف سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد علی گیلانی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری میں تعاون کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
صدر ہائیکورٹ بار نے کہا، “میں درود شریف پڑھ کر قسم کھاتا ہوں کہ ہم نے انہیں جان بوجھ کر پولیس کے حوالے نہیں کیا۔ جو لوگ ہمارے یا ہائیکورٹ بار پر الزام لگا رہے ہیں، وہ دراصل اپنے اعمال کے نتائج بھگت رہے ہیں۔”
واجد علی گیلانی نے مزید بتایا کہ دونوں کے خلاف کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پہلے ہی دائر کی گئی تھی اور اس حوالے سے چیف جسٹس اور سیکرٹری مطلع تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا تھا، جس کے بعد ہم نے دونوں کو محفوظ طریقے سے ہائی کورٹ بار کے دفتر منتقل کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔