یہ سال 2010 کی بات ہے جب کراچی کی خصوصی اینٹی کرپشن عدالت نے طویل عرصے سے زیرِ التوا گل پلازہ کرپشن کیس کا ڈراپ سین کرتے ہوئے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (کے بی سی اے)  کے سابق سربراہ اے ایس ناصر اور بلڈنگ کنٹرولرز سمیت تمام 12 ملزمان کو بری کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب حکومتِ سندھ نے اچانک مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کیا، جس پر عدالت نے استغاثہ کی درخواست منظور کی۔

قانونی موڑ اور حکومت کا کردار

کیس میں اس وقت غیر متوقع موڑ آیا جب سرکاری وکیل محمد عارف ستائی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 494 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مقدمہ واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق

صوبائی حکومت کی جانب سے اس بابت باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد جج راشدہ اسد نے تمام ملزمان کو الزامات سے پاک قرار دے دیا۔

الزامات کی نوعیت اور ماضی کی کارروائی

یہ مقدمہ 2005 میں درج کیا گیا تھا (FIR 56/2005)، جس کے مطابق کے بی سی اے کے افسران نے گل پلازہ کے مالک گل محمد خانانی کے ساتھ ملی بھگت کر کے پارکنگ کے لیے مخصوص جگہ پر دکانوں کی تعمیر کی غیر قانونی اجازت دی تھی۔

 استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدام سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ لاکھوں روپے کے عوض غیر قانونی بلڈنگ پلان کی منظوری دی گئی، سرکاری دستاویزات میں رد و بدل اور جعلی کاغذات کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد رشوت ستانی اور امانت میں خیانت کی دفعات PPC 161، 409، 420 وغیرہ شامل کی گئیں۔

بریت سے قبل کا طویل ٹرائل

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس بریت سے قبل ملزمان نے کئی بار بریت کی کوششیں کیں۔ سابق چیف اے ایس ناصر کی جانب سے دفعہ 249-A کے تحت دائر درخواستیں ماضی میں کئی بار مسترد ہوئیں، اور عدالت نے اسے وقت ضائع کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ایک مرحلے پر سابق جج سید گل منیر شاہ نے تمام ملزمان پر فردِ جرم بھی عائد کی تھی، جہاں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے ٹرائل کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم استغاثہ کے گواہان کے بیانات قلم بند ہونے اور کسی حتمی فیصلے سے قبل ہی حکومت کی جانب سے مقدمہ واپسی کی درخواست نے برسوں سے جاری اس قانونی جنگ کا خاتمہ کر دیا۔

بری ہونے والے نمایاں افراد

بری ہونے والوں میں بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر کے علاوہ سابق سینئر بلڈنگ کنٹرولر اخلاق احمد، علی ظفر قادری، ممتاز حیدر، محمد فہیم، جعفر امام، محی الدین شریف، حوا بائی، اور پلازہ کے مالک گل محمد خانانی شامل ہیں۔

 یہ کیس کراچی کے کمرشل انفراسٹرکچر اور ریگولیٹری اداروں میں سیاسی مداخلت کی ایک مثال ہے، جہاں ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہی ایگزیکٹو پاور کا استعمال کر کے راستہ صاف کر دیا گیا۔

’گل پلازہ کا پلاٹ واقعی غلط مقاصد کے لیے استعمال ہوا تھا‘

اس کیس میں پیش ہونے والے اس وقت کے پبلک پراسیکیوٹر عارف ستائی نے وی نیوز کو بتایا کہ گل پلازہ کا پلاٹ واقعی غلط مقاصد کے لیے استعمال ہوا تھا، ایس بی سی اے نے غلط اپروولز دیں، گل پلازہ کی پارکنگ کی جگہ کو بھی غلط استعمال کیا گیا، وہاں بھی دکانیں بنائی گئیں، اے ایس ناصر الدین اس کیس کا مرکزی ملزم تھا۔

عارف ستائی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کافی عرصہ تک التوا کا شکار رہا، یہاں تک کہ ہم نے محکمہ کو خطوط بھی لکھے تھے، لیکن پھر حکومت سندھ کی جانب سے ایک درخواست آئی تھی جس کے بعد یہ کیس ختم ہوا، حکومت سندھ کی جانب سے اس کیس میں وِدڈرال کی اپروول آئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ایس ناصر کی جانب سے کرتے ہوئے گل پلازہ کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ

(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی