فرانس کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کو نام نہاد دہشت گردوں کی فہرست میں شامل رکھنے کی مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
یورپی یونین کے کچھ ارکان نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو نام نہاد دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پیر کے روز، اطالوی وزیر خارجہ نے بھی ملک کی سابقہ پوزیشن کو تبدیل کرتے ہوئے ایسے اقدام کا مطالبہ کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی ملک فرانس نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق یورپی سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین ایران میں پیش رفت کے حوالے سے جمعرات کو ہونے والے اپنے اجلاس میں 20 ایرانی افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق نئی پابندیاں ان پرزوں کی برآمد پر پابندیاں عائد کریں گی جنہیں ایران ڈرون اور میزائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے اور کئی افراد اور اداروں کو بھی یوکرین کے ساتھ جنگ میں روس کی مدد کے بہانے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
اس دوران، یورپی یونین کے کچھ ارکان نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو نام نہاد دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پیر کے روز، اطالوی وزیر خارجہ نے بھی ملک کی سابقہ پوزیشن کو تبدیل کرتے ہوئے ایسے اقدام کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب فرانس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کو نام نہاد دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کے خلاف واحد ملک بن گیا ہے۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق پیرس کو تشویش ہے کہ اس طرح کے اقدام سے تہران کے ساتھ مواصلاتی راستے مکمل طور پر منقطع ہو جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فہرست میں شامل کرنے کو نام نہاد دہشت گرد کا مطالبہ کیا تھا
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :