حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کر رہی ہے، اس کے لیے مؤثر ٹیم کے ساتھ کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں پولیو کا نیا کیس، 2025 میں مجموعی تعداد 31 تک پہنچ گئی
بدھ کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی کرس ایلیاس نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، ملاقات میں میں پاکستان میں انسدادِ پولیو کی کوششوں اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں پولیو کے مکمل سدباب تک بل گیٹس فاؤنڈیشن جیسے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے تعاون سے اقدامات جاری رکھے جائیں گے، پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے بل گیٹس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس ضمن میں مسلم برادر ممالک خصوصاً سعودی عرب کے تعاون پر بھی پاکستان شکر گزار ہے۔
Islamabad: President Global Development Gates Foundation Dr.
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 28, 2026
ان کا کہنا تھا کہ حکومت جامع حکمت عملی اور مؤثر ٹیم کے ساتھ عملی اقدامات کر رہی ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، خاطر خواہ کامیابیوں کے باوجود اس بیماری کے خلاف جنگ میں ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت پولیو ٹیموں کی ملک بھر میں رسائی یقینی بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت کام کر رہی ہے اور انسدادِ پولیو سے متعلق منصوبے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری رکھے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد پولیو ویکسینیشن مہم: آصفہ بھٹو نے والدین سے اہم اپیل کردی
انہوں نے وفاقی وزارتِ صحت کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو، عوامی آگاہی اور ویکسین کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر سفارشات مرتب کی جائیں۔
’پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے درست سمت میں گامزن ہے‘ملاقات کے دوران گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی کرس ایلیاس نے وزیراعظم پاکستان کی انسدادِ پولیو پر ذاتی توجہ اور مؤثر عملی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے درست سمت میں گامزن ہے، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ انسدادِ پولیو پر تعمیری مشاورت جاری رہے گی۔
کرس ایلیاس نے پاکستان میں پولیو وائرس کی ماحولیاتی موجودگی کے خاتمے اور تمام علاقوں میں پولیو ٹیموں کی رسائی کے لیے کیے گئے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان پولیو گیٹس فاؤنڈیشن وزیراعظم شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پولیو گیٹس فاؤنڈیشن وزیراعظم شہباز شریف پولیو کے مکمل خاتمے کے گیٹس فاؤنڈیشن عملی اقدامات خاتمے کے لیے میں پولیو کے خاتمے کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔