data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا:بنگلا دیش نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقامی سطح پر ڈرونز کی تیاری کے لیے بنگلا دیش ایئر فورس اور چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (سی ای ٹی سی) انٹرنیشنل کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کو بنگلا دیش کے دفاعی اور تکنیکی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلا دیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک کے تحت طے پایا ہے۔ معاہدے کے تحت بنگلا دیش میں جدید ڈرونز کی پیداوار، اسمبلنگ سہولیات کے قیام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے، جس سے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت بنگلا دیش ایئر فورس اور سی ای ٹی سی انٹرنیشنل مشترکہ طور پر بنگلا دیش میں جدید ترین ڈرونز کی تیاری اور اسمبلنگ کے مراکز قائم کریں گے، ان مراکز میں نہ صرف ڈرونز کی اسمبلنگ کی جائے گی بلکہ مستقبل میں مکمل پیداوار کی صلاحیت بھی حاصل کی جائے گی، جس سے بنگلا دیش کو ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل مدتی خود کفالت حاصل ہو سکے گی۔

اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی افرادی قوت کی تربیت، استعداد کار میں اضافہ اور صنعتی و تکنیکی مہارتوں میں بہتری شامل ہوگی، اس تعاون کا مقصد بنگلا دیش کو ڈرونز کی تیاری کے میدان میں ایک مضبوط اور خود انحصار ملک بنانا ہے تاکہ مستقبل میں دفاعی ضروریات کے لیے بیرونی انحصار کم سے کم ہو۔

ابتدائی مرحلے میں بنگلا دیش ایئر فورس کو مختلف اقسام کے میڈیم آلٹی ٹیوڈ لو اینڈیورینس (MALE) ڈرونز اور ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (VTOL) ڈرونز تیار اور اسمبل کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ یہ ڈرونز نگرانی، انٹیلی جنس، ریکی اور دیگر دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے جو بنگلا دیش کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ ثابت ہوں گے۔

مزید برآں اس منصوبے کے ذریعے بنگلا دیش ایئر فورس کو مقامی سطح پر اپنے ڈیزائن کردہ ڈرونز تیار کرنے کا موقع بھی ملے گا یہ ڈرونز نہ صرف عسکری کارروائیوں میں بلکہ امدادی سرگرمیوں، قدرتی آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور دیگر شہری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش ایئر فورس ڈرونز کی تیاری کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی