گلگت بلتستان میں شدید سردی کی لہر کا الرٹ اور مزید بارشوں، برفباری کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
محکمہ موسمیات کے مطابق 30 جنوری سے 2 فروری کے دوران گلگت بلتستان کے تمام اضلاع بشمول دیامر، استور، غذر، سکردو، ہنزہ، اور گلگت میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر شدید برف باری کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں سردی کی شدید لہر کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، 30 جنوری سے 2 فروری تک موسلا دھار بارش اور شدید برف باری کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے سیاحوں اور مقامی آبادی کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے، شاہراہِ قراقرم سمیت اہم راستوں پر سفر میں احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 30 جنوری سے 2 فروری کے دوران گلگت بلتستان کے تمام اضلاع بشمول دیامر، استور، غذر، سکردو، ہنزہ، اور گلگت میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر شدید برف باری کا امکان ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدید برف باری کے باعث پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں شاہراہِ قراقرم ، جے ایس آر (شاہراہ بلتستان) اور جی ایس آر جیسے اہم زمینی راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور مسافروں کے پھنس جانے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ سیاح اور مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر پر نکلنے سے پہلے سڑکوں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کریں۔ ایسے مقامات پر رہنے والے لوگ جو برفانی تودوں کی زد میں آ سکتے ہیں، وہ الرٹ رہیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ انتظامیہ ریسکیو 1122، ٹورسٹ پولیس اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ حکام نے این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او کو بھی ہدایت کی ہے کہ سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے مشینری کو تیار رکھا جائے تاکہ رابطہ سڑکوں کی جلد بحالی ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان گیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔