پاکستان میں پیکا ایکٹ سے آزادی اظہار کا گلا گھونٹا گیا ہے، راجا ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جب رسمی ذرائع سے خبر نہیں ملتی تو افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا ہے، پاکستان میں پیکا ایکٹ سے آزادی اظہار کا گلا گھونٹا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناجائز طور پر پریشرائز کرکے میڈیا کو کہا جاتا ہے کہ فلاں جماعت یا شخص کا نام نہ لیا جائے، حقائق تک رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیمرا کا جو نوٹس جاری ہوا یہ مناسب نہیں، پہلے ہی لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، دفعہ 144 لگا دی جاتی ہے.
قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فری ٹرائل کا حق دیا جانا چاہیے تھا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ اگر کوئی سوال نہیں کرے گا یا تنقید نہیں کرے گا تو پھر ڈکٹیٹرشپ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدان جوابدہ ہیں تو پھر عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور تمام افراد جوابدہ ہیں، ضروری ہے سوال کے جواب دیے جائیں، اگر غلطی ہے تو اصلاح کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔