عمران خان کی طبعیت خراب ہوئی،ہسپتال پہنچایا اور اہلخانہ کو پتا نہیں،راجا ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
(ویب ڈیسک) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ ہمیں پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے متعلق تشویش ہے۔ پتہ چلا ہے کہ عمران خان کی جیل مین طبعیت خڑاب ہوئی، ان کو ہسپتال لایاگیا لیکن ان کے اہل خانہ کو اس معاملہ کی اطلاع تک نہیں دی گئی۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنما راجا ناصر عباس نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبریں چل رہی ہیں کہ عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور پارٹی کو نہیں پتا، ان کی فیملی کو بھی نہیں پتا۔ اس سب کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ ظلم کریں اور جواب نہ دینا پڑے۔
بیرسٹر گوہر نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، آج تک ہمیں ملاقات کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، ہم نے پٹیشن بھی دائر کی لیکن ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، ایک نیوز پیپر میں رپورٹ ہوا کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا اور پھر جیل واپس لایا گیا، اس بات سے پارٹی اور فیملی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیوںکہ آج تک یہ نہیں بتایا جارہا کہ کس بیماری کی وجہ سے لایا گیا؟ اس عمل کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہاآپ لوگ اپنی طاقت بڑھانے کے لئے آئین میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ 8 فروری تک ملاقات نہ روکیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل تک بانی سے ہماری ملاقات کروائی جائے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
راجا ناصر عباس نے کہا کہ 8 فروری کو عوام نے آپ کو ٹھکرایا تھا۔ عوام نے ہر رکاوٹ کو گرا دیا۔ عمران خان اگر آج باہر ہوتے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بورڈ ہی نہ بنتا۔ جب غزہ کے عوام چیخ رہےتھے تب آپ ان کی مدد کے لیے نہیں گئے۔ آپ سمجھتے تھے کہ نشان چھین لیں گے اور کارنر میٹنگ نہیں کرنے دیں گے، عوام نے جو آپ کے ساتھ کیا وہ آپ نے دیکھا۔ سیاسی بحران 8 فروری کے الیکشن سے پیدا ہوا۔ بے روزگاری بڑھی ہے۔ کسانوں کا نقصان ہوا ہے۔ اسی لئے ہم نے 8 فروری کو یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم نے پٹیشن دائر کی ہے ملاقاتوں کیلئے، آج ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹیشن کو سائیڈ پر کر دیا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کو ذاتی معالج اور فیملی ممبرز کو ان سے ملنے دیا جائے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ظلم پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہ ہو سکتا ہے کہ سیاست کو بھی دفن کر دیا جائے، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کرنا جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اپنی بے زاری کا اظہار کریں۔
سوئی ناردرن کے ملازمین 41 کروڑ روپے کے گیس پائپ لائن چوری کرکےلے گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر سلمان اکرم راجا بیرسٹر گوہر یوم سیاہ کہ عمران خان لایا گیا نے کہا کہا کہ ہیں کہ
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔