گل پلازہ میں آگ بچوں کے ہاتھوں فلاور شاپ میں لگی، تحقیقاتی رپورٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
حتمی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں آگ بچوں کے ہاتھوں فلاور شاپ میں لگی، جو ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی، 79 اموات ہوئیں، سب سے زیادہ ہلاکتیں میزنائن فلور پر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ کمشنر کراچی نے سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی، جس میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ بچوں کے ہاتھوں فلاور شاپ میں لگی، جو ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی، 79 اموات ہوئیں، سب سے زیادہ ہلاکتیں میزنائن فلور پر ہوئیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے، کمشنر کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کرینگے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات اور آگ بجھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل معلومات درج ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ گراؤنڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی، آگ تیزی سے پھیلی اور ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے سے 79 اموات ہوئیں، زیادہ تر اموات گل پلازا کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔ رپوٹ میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی، پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ڈپٹی کمشنر جنوبی 10:30 پر گل پلازہ پہنچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحقیقاتی رپورٹ گل پلازہ میں رپورٹ میں سے پھیلی فلور پر
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔