data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-03-6
جس دن بھارت کے شہر حیدرآباد میں یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعاون پر مبنی مدر آف آل ڈیلز کی تقریب ہور ہی تھی عین اسی دن خلیجی اخبار گلف نیوز نے ڈان کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی۔ حقیقت میں یہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ تھی جسے پہلے ڈان نے اور بعدازاں گلف نیوز نے شائع کیا۔ ’’جس کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025,26 کی پہلی ششماہی یعنی جولائی سے دسمبر تک پاکستان کا تجارتی خسارہ 44.
ہم یہ بات فراموش کر بیٹھے جو عوامی جمہوریہ چین ہمیں مچھلی پکڑ کر دینے کے بجائے مچھلی پکڑنے کا طریقہ بتا کر حقیقی خود انحصار ملک بنانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے تھا وہی چین اب افغانستان کے پشت پر آن کھڑا ہے۔ اپنی بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ وہ افغانوں کو مچھلی پکڑنے کے وہ سارے گْر بھی سکھا رہا ہے جو وہ پاکستانیوں کو سکھانے میں ناکام رہا۔ کراچی کی بندرگاہ تک رسائی سے محروم ہونے کے بعد انہوں نے چابہار اور پورٹ عباس کی بندرگاہوں کو استعمال کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے تاجروں کو حکم دیا کہ وہ پاکستان میں اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ حساب کتاب ایک مخصوص مدت کے اندر ختم کریں اس کے بعد لین دین پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔ افغانستان کو دوائیوں کی ترسیل کے لیے جو فارماسیوٹیکل کمپنیاں قائم کی گئی تھیں ان کے کاروبار بند ہوگئے۔ افغانی محنتی قوم ہے اور پاکستان کا کون سا گھر ہے جو ان کے محنتی اور جفاکش ہونے کا ذاتی گواہ نہیں۔ گھروں کی تعمیر سے سامان کی منتقلی تک مشکل ترین کاموں کی انجام دہی کی کسی بھی شکل تک پاکستانیوں کو بے شمار افغان کردار آج بھی یاد ہوں گے۔ افغان حکومت نے واپس جانے والے مہاجرین کو سرد موسم میں دربدر ہونے سے بچانے کے لیے ان افغانوں کے خالی گھروں کو بزور طاقت کھول دیا جو غیر ملکوں میں مقیم ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ملکوں کے ساتھ معاہدات کرکے اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی گئیں۔ گو کہ پاکستان کے ساتھ کم لاگت اور کم فاصلے کی تجارت کا کوئی نعم البدل ان کے پاس نہیں مگر وہ پاکستان کے لیوریج کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پنجاب کا کسان بدحال اور پریشان ہے۔ آلو اور کینو سمیت ایسی بہت سی اشیائے خورونوش برباد ہو رہی ہیں جن کی منڈی افغانستان تھا۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی رونقیں عرب دوستوں اور چین کے زر ضمانت کے دم سے قائم ہیں جبکہ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار اور حکومتی پالیسیوں کے باعث ہمارا جی پی ایس اسٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ بھارت چالیس کھرب کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکاہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کی مہمان خصوصی یورپی کونسل کی صدر ارسلا وانڈئیر لین تھیں۔ یہ محض ایک رسمی دورہ اور فوٹو سیشن نہیں رہا، نہ ہی مس ارسلا نے بھارت کو آپریشن سندور میں کارکردگی کی تعریفوں پر ٹرخایا بلکہ اس موقع کو بھارت اور یورپی یونین دونوں نے ایک ایسے معاہدے کے لیے استعمال کیا جسے فریقین نے مدر آف آل ڈیلز کا نام دیا۔ جس کے مطابق دوبلین عوام کے لیے فری ٹریڈ زون قائم کرنے کے عہد وپیماں ہوئے۔ ارسلا وانڈئیر لین کا کہنا تھا کہ ہندوستان دنیا کو مزید مستحکم خوش حال اور محفوظ بنائے گا اور ہم سب کو اس سے فائدہ ہوگا۔
جب سے ٹرمپ نے یورپ اور بھارت دونوں کو دھمکانا شروع کیا ہے تو دونوں نے بہم یکجا ہونے کا راستہ اپنالیا ہے یہی نہیں بلکہ یورپ نے امریکا کو ہم کوئی غلام ہیں کیا؟ کہہ کر چین کے ساتھ تجارتی اور دفاعی راہ ورسم بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ حد تو یہ کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر چینی صدر ژی جن پنگ نے جو تہنیتی پیغام جاری اس کے مندرجات میں ہمارے لیے غور کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ بھارتی صدر اے وپدی مرمو کے نام صدر ژی کا پیغام کچھ یوں تھا۔ ’’ہم اچھے دوست، پڑوسی اور شراکت دار ہیں۔ ایک سال میں ہندوستان اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ چین اور ہندوستان ایک ساتھ رقص کرنے والے ڈریگن اور ہاتھی ہیں‘‘۔ چین کو ڈریگن اور بھارت کو ہاتھی سے تشبیہہ دی جاتی ہے اور دونوں نے ایک اسٹیج پر اور ایک چھت تلے رقص کرنے کا راستہ چن لیا ہے تو سمجھ جانا چاہیے کہ ہم اپنے مسائل اور ترجیحات کی پوٹلی کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں؟۔ ہمارے حکمران طبقات کا فرض تو یہ بنتا ہے کہ امریکا کو بتائیں کہ جس طرح کا معاہدہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہوا ہے اسی طرح کا معاہدہ پاکستان کے ساتھ کیا جائے۔ اوّل تو پاکستان ایسا مطالبہ نہیں کرے گا اگر کرے گا بھی ہو تو ماضی کی روایات اور تاریخ کہ روشنی میں اس کا حال یوں ہوگا۔
قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں
یہ جانتا ہوں وہ کیا لکھیں گے جواب میں
دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے دوران امریکا بھارت کے ساتھ معاہدوں کا ایک سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا تو پاکستان ہر معاہدے کے بعد یہ مطالبہ کرتا تھا کہ اسی طرز کا معاہدہ پاکستان کے ساتھ بھی کیا جائے مگر امریکا کا جواب تھا پاکستان اور بھارت کے لیے امریکا کے دو الگ خانے اور پیمانے ہیں۔ آپ کے ساتھ جنگوں میں تعاون کا تعلق ہے بھارت کے ساتھ طویل المیعاد تزویراتی شراکت داری۔ آپ کو اپنی ہر دور کی خدمت کا صلہ موقع پر ہی دیا جاتا ہے جبکہ ان کے ساتھ ترقی کے امکانات اور مواقع فراہم کرنے کا تعلق ہے جو ہمہ موسمی ہے۔ اس کہانی میں ہمارے دو ہمسائے ڈریگن اور ہاتھی آخر کار ایک اسٹیج پر ایک ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر رقص کرنے پر آمادہ ہوگئے اور ہماری ترجیحات کا عالم یہ ہے کہ بسنت میں کون سے رنگ اور تصویر والی پتنگ اْڑائی جانی ہے اور کون سا گانا چلانا اور کس سے پرہیز کرنا کرنا ہے؟ ٹرمپ ہمارے ہاتھوں بھارت کے گرائے جانے والے جہازوں کی تعداد بھلے کم کر دے مگر ہمارے ساتھ ایک مضبوط تجارتی معاہدہ کرے تاکہ اس تعلق اور تعاون کا فائدہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی جڑوں یعنی عوام تک پہنچ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ان کے ساتھ اور بھارت بھارت کے کے لیے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔
لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔