مارکیٹ،سابق نگراں وزیراعظم نے دکانداروں کی مالی مدد کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد انتظامیہ کی جانب سے بڑھئی مارکیٹ میں دکانداروں کے کئے گئے نقصان پر سابق نگران وزیر اعظم کی جانب سے مالی امداد ،42دکانداروں میں نقد رقم تقسیم کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی بڑئی مارکیٹ میں بلدیہ اور انسداد تجاوزات کی جانب سے بنا نوٹس کے رات کی تاریکی میں کارروائی میں مسمار کی گئی دکان اور ہونے والے نقصان پر سابق نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو اور ان کی ہمشیرہ ملیحہ سومرو کی طرف سے نوٹس لیتے ہوئے متاثر دکانداروں کی مالی مدد کی گئی۔ سابق نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومروکے وفد نے پیر بخاری روڈ پر واقع بڑھئی مارکیٹ پہنچ کر دکانداروں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور 4 لاکھ 20ہزار متاثرین میں تقسیم کئے جس پر دکانداروں نے سابق نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو اور ان کی ہمشیرہ ملیحہ سومرو کو شکریہ ادا کیا۔ رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سارے شہر کو پتا ہے ناجائز تجاوزات کس کی ہیں شہریوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انتظامیہ آلہ کار نہ بنے تجاوزات کے خلاف کارروائی بلا امتیاز کی جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔