پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں مکمل ڈیڈ لاک، رابطوں کا سلسلہ ختم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان براہِ راست ہی نہیں بلکہ غیر رسمی اور بالواسطہ رابطوں کے تمام ذرائع بھی مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔
پارٹی کے اندر اس صورتحال کو غیر معمولی سیاسی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قیادت مستقبل کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے وہ ارکان بھی اب رابطے میں نہیں رہے جو ماضی میں پس پردہ یا غیر رسمی سطح پر بات چیت کرتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعطل اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ بتدریج اس وقت بڑھا جب پارٹی کی احتجاجی سیاست نے شدت اختیار کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق رابطوں کے خاتمے کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کی مسلسل احتجاجی سرگرمیاں اور ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ عوامی بیانیہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرزِ سیاست نے ممکنہ بات چیت کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ احتجاجی سیاست اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کے بقول اگر کوئی جماعت سڑکوں پر بھی ہو، سخت زبان بھی استعمال کرے اور ساتھ ہی مذاکرات کی توقع رکھے تو یہ عملی طور پر ممکن نہیں رہتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت اب اس حقیقت کو بڑی حد تک تسلیم کر چکی ہے کہ جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے باعث فی الحال کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش موجود نہیں۔ اسی تناظر میں پارٹی کے اندر یہ جاننے کی بے چینی پائی جاتی ہے کہ 8 فروری کا احتجاج کیا کوئی مختلف یا غیر متوقع نتیجہ دے سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کارکنان کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے، جبکہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر مرکزی احتجاج سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم پارٹی کے اندر خود توقعات محدود دکھائی دیتی ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ کسی موثر احتجاجی سرگرمی کا دائرہ زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ موجودہ سیاسی اور انتظامی حالات میں پنجاب میں متحرک اور منظم احتجاج کے امکانات نہایت کم قرار دیے جا رہے ہیں۔
پارٹی کے ایک سینئر ذریعے کے مطابق قیادت خود بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ کسی بڑی پیش رفت یا انقلابی نتیجے کی امید کم ہے۔ ان کے بقول 8 فروری کے احتجاج کو فیصلہ کن مرحلے کے بجائے محض سیاسی موجودگی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد ممکنہ طور پر مذاکرات کی راہ اپنانے پر زور دے سکتا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ بات چیت کے لیے واضح شرائط ناگزیر ہوں گی۔
ماضی میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ختم کیے بغیر کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی نظام کو چلنے دینا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ کسی ایسی سیاسی تحریک کی اجازت نہیں دی جائے گی جو موجودہ سیٹ اپ کو خطرے میں ڈالے یا معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرے۔ ان کے بقول ملکی معاشی حالات نے سیاسی کشیدگی کے لیے گنجائش انتہائی محدود کر دی ہے۔
سابقہ رابطوں سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق اس مرحلے پر کوئی ایسی سرگرمی قابل قبول نہیں ہوگی جو معاشی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کی آئندہ سیاسی سمت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پارٹی کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ تنظیمی طاقت، عوامی متحرک کیے بغیر اور مذاکرات کے فقدان میں طویل محاذ آرائی کی سیاست کہاں تک قابلِ عمل رہ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پارٹی کے اندر کا کہنا ہے کہ پی ٹی ا ئی کے مطابق بات چیت
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
ویب ڈیسک :آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں دو روز باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آج میرپور کے قائداعظم سٹیڈیم میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے میں میاں نواز شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی دیگر مرکزی و مقامی قیادت بھی شریک ہوگی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سٹیج کی تیاری سمیت دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے میں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے، جبکہ جلسے کے لیے مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ آزادکشمیر ڈویژن میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے، جس کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم تیز کیے ہوئے ہیں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ