سانحہ گل پلازہ پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی نورا کشتی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-03-3
سانحہ گل پلازہ کا پس منظر یہ ہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ ایک بڑا تجارتی مرکز تھا جس میں 17 جنوری 2026 کو ہونے والی آتشزدگی میں کم از کم 70-72 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی اور 1200 سے زائد دکانیں تباہ ہوئیں، جبکہ 80-88 افراد لاپتا ہیں۔ یہ کراچی کی تاریخ کی ایک اور بھیانک آتشزدگی ہے، جو شہر کے انتظامی خامیوں کو اُجاگر کرتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور بیان بازی نے بھی پاکستان کی سیاست میں آگ لگادی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں کہا، ’’گل پلازہ ایک قومی سانحہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ 22 گھنٹے بعد پہنچے، 80 افراد لاپتا ہیں، کراچی کی 4 کروڑ آبادی کے لیے صرف 25 فائر بریگیڈ اسٹیشن ہیں‘‘۔ مصطفی کمال نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’سندھ حکومت کوئی ضمانت نہیں دے سکتی کہ یہ کراچی کا آخری سانحہ ہوگا‘‘۔ ایم کیو ایم کے وسیم حسین نے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل کو جواب دیا، ’’گل پلازہ کی تعمیر کے وقت تمام ادارے واقف تھے، الزامات کے بجائے ذمے داروں کا تعین کریں‘‘۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا، ’’گل پلازہ کے واقعہ سے جان نہیں چھڑا رہے، مصطفی کمال 12 مئی کا دفاع کر رہے تھے تو خود کہاں تھے؟ یہ موقع پرست ہیں، وفاقی وزیر صحت ہونے کے باوجود غائب رہے‘‘۔ عبدالقادر پٹیل نے قومی اسمبلی میں کہا، ’’پیپلز پارٹی نے متاثرین کو مکمل مالی معاونت دی، ایم کیو ایم ذمے دار ہے‘‘۔ پٹیل نے مزید کہا، ’’گل پلازہ اس دور کی نشانی ہے جو آئینہ دکھا رہا ہے‘‘۔ خالد مقبول صدیقی نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، ’’17 سالہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے‘‘۔ الزام تراشی کا سلسلہ ایم کیو ایم نے شروع کیا، اس معاملے میں اپوزیشن کی تنقید تو سمجھ میں آتی ہے لیکن سیاسی اتحادیوں کا آپس میں الجھ جانا ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی نورا کشتی ہے جو اصل معاملے کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
مصطفی کمال اور فاروق ستار سارا الزام پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر ڈال رہے ہیں، جبکہ شرجیل میمن اور قادر پٹیل ایم کیو ایم کو ماضی کے واقعات سے جوڑ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم 18 ویں ترمیم اور صوبائی بدانتظامی کا ذکر کر کے وفاقی مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو موقع پرست اور ماضی کی دہشت گردی سے ملوث قرار دے رہی ہے۔ یہ بیان بازی حکومتی اتحاد کے باوجود جاری ہے، جو کراچی کے مسائل کو سیاسی تنازع بنا رہی ہے۔ ماضی کی تاریک تاریخ اور تضادات کی روشنی میں ایم کیو ایم کو تو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے تھا۔ اب پیپلز پارٹی کو بھی ان کے خلاف بولتے ہوئے وہ دن یاد رکھنے چاہیے تھے کہ 12 مئی کے واقعات کے باوجود آپ نے نہ صرف ان کو گلے لگایا بلکہ ان کے ساتھ سیاسی اتحادوں میں شامل رہے۔ یاد کریں کہ جب ایم کیو ایم پر بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی (2012) کا الزام ثابت ہو چکا ہے، جہاں 289 مزدور جاں بحق ہوئے، اور اسے دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ سابق گورنر عشرت العباد، مصطفی کمال اور فاروق ستار پر کراچی میں قتل و غارت گری کی سرپرستی کا الزام لگتا ہے، ان کے حکم کے بغیر دہشت گرد ایک گولی بھی نہیں چلا سکتے تھے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کو سیاست میں زندہ رکھا گیا، اور اب وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ ایم کیو ایم کو زندہ رکھنے میں مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا بہت اہم کردار ہے اپنے اقتدار کو سہارا دینے کے لیے ان تینوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کا ساتھ دیا یہاں تک کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر ایم کیو ایم کے در پر حاضری دی تھی۔ کیونکہ مصنوعی طور پر گھڑی ہوئی جماعت ہے جو از خود اردو بولنے والے مہاجروں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے۔
ایم کیو ایم کو اگر پیپلز پارٹی سے شکایت ہے تو وزارتوں اور اسمبلیوں سے استعفا کیوں نہیں دیتی؟ اور پیپلز پارٹی بھی ان سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتی کہ وہ حکومت اور اسمبلی سے استعفا دے دیں اسی وجہ سے ہمیں یہ سیاسی بیان بازی نورا کشتی لگتی ہے۔ یہ تضاد ان کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ متاثرین کی مدد کرنے کے بجائے دونوں جماعتیں حکومتی اتحاد میں ہونے کے با وجود سانحے پر سیاست کھیل رہی ہیں، جبکہ متاثرین کو جانی اور مالی نقصانات کے ازالے کی ضرورت ہے۔ بجائے الزام تراشی کے شہر میں حفاظتی منصوبہ بندی ہونی چاہیے، جیسے فائر بریگیڈ کے انتظامات کو جدید طرز پر بڑھانا چاہیے، کسی ناگہانی آفت کے وقت ایمرجنسی راستوں کے کھلے رہنے کو یقینی بنانا۔ ہمارا تو ایم کیو ایم کو مشورہ ہے کہ اسمبلی اور وزارتوں سے استعفا دے، دوبارہ الیکشن لڑے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کو پسند کرتے بھی ہیں یا نہیں یا پھر وہ دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں جعل سازی کے ذریعے نشستیں حاصل کر کے پاکستان کی سیاست میں فساد پھیلاتے رہیں گے، دیانت داری کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف بھی کریں گے یا نہیں۔ ماضی کے واقعات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ایم کیو ایم نام کی جماعت دراصل دہشت گرد جماعت ہے جس پر نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں پابندی لگنی چاہیے اور اسے کالعدم ہو جانا چاہیے۔ پاکستان کی سیاست کو متاثرین کی مدد پر مرکوز کرنا چاہیے، نہ کہ بیان بازی پر۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی مصطفی کمال کے باوجود گل پلازہ ایم کی رہی ہے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔