Jasarat News:
2026-06-02@22:21:33 GMT

سانحہ گل پلازہ پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی نورا کشتی

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260129-03-3
سانحہ گل پلازہ کا پس منظر یہ ہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ ایک بڑا تجارتی مرکز تھا جس میں 17 جنوری 2026 کو ہونے والی آتشزدگی میں کم از کم 70-72 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی اور 1200 سے زائد دکانیں تباہ ہوئیں، جبکہ 80-88 افراد لاپتا ہیں۔ یہ کراچی کی تاریخ کی ایک اور بھیانک آتشزدگی ہے، جو شہر کے انتظامی خامیوں کو اُجاگر کرتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور بیان بازی نے بھی پاکستان کی سیاست میں آگ لگادی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں کہا، ’’گل پلازہ ایک قومی سانحہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ 22 گھنٹے بعد پہنچے، 80 افراد لاپتا ہیں، کراچی کی 4 کروڑ آبادی کے لیے صرف 25 فائر بریگیڈ اسٹیشن ہیں‘‘۔ مصطفی کمال نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’سندھ حکومت کوئی ضمانت نہیں دے سکتی کہ یہ کراچی کا آخری سانحہ ہوگا‘‘۔ ایم کیو ایم کے وسیم حسین نے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل کو جواب دیا، ’’گل پلازہ کی تعمیر کے وقت تمام ادارے واقف تھے، الزامات کے بجائے ذمے داروں کا تعین کریں‘‘۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا، ’’گل پلازہ کے واقعہ سے جان نہیں چھڑا رہے، مصطفی کمال 12 مئی کا دفاع کر رہے تھے تو خود کہاں تھے؟ یہ موقع پرست ہیں، وفاقی وزیر صحت ہونے کے باوجود غائب رہے‘‘۔ عبدالقادر پٹیل نے قومی اسمبلی میں کہا، ’’پیپلز پارٹی نے متاثرین کو مکمل مالی معاونت دی، ایم کیو ایم ذمے دار ہے‘‘۔ پٹیل نے مزید کہا، ’’گل پلازہ اس دور کی نشانی ہے جو آئینہ دکھا رہا ہے‘‘۔ خالد مقبول صدیقی نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، ’’17 سالہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے‘‘۔ الزام تراشی کا سلسلہ ایم کیو ایم نے شروع کیا، اس معاملے میں اپوزیشن کی تنقید تو سمجھ میں آتی ہے لیکن سیاسی اتحادیوں کا آپس میں الجھ جانا ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی نورا کشتی ہے جو اصل معاملے کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

مصطفی کمال اور فاروق ستار سارا الزام پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر ڈال رہے ہیں، جبکہ شرجیل میمن اور قادر پٹیل ایم کیو ایم کو ماضی کے واقعات سے جوڑ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم 18 ویں ترمیم اور صوبائی بدانتظامی کا ذکر کر کے وفاقی مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو موقع پرست اور ماضی کی دہشت گردی سے ملوث قرار دے رہی ہے۔ یہ بیان بازی حکومتی اتحاد کے باوجود جاری ہے، جو کراچی کے مسائل کو سیاسی تنازع بنا رہی ہے۔ ماضی کی تاریک تاریخ اور تضادات کی روشنی میں ایم کیو ایم کو تو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے تھا۔ اب پیپلز پارٹی کو بھی ان کے خلاف بولتے ہوئے وہ دن یاد رکھنے چاہیے تھے کہ 12 مئی کے واقعات کے باوجود آپ نے نہ صرف ان کو گلے لگایا بلکہ ان کے ساتھ سیاسی اتحادوں میں شامل رہے۔ یاد کریں کہ جب ایم کیو ایم پر بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی (2012) کا الزام ثابت ہو چکا ہے، جہاں 289 مزدور جاں بحق ہوئے، اور اسے دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ سابق گورنر عشرت العباد، مصطفی کمال اور فاروق ستار پر کراچی میں قتل و غارت گری کی سرپرستی کا الزام لگتا ہے، ان کے حکم کے بغیر دہشت گرد ایک گولی بھی نہیں چلا سکتے تھے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کو سیاست میں زندہ رکھا گیا، اور اب وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ ایم کیو ایم کو زندہ رکھنے میں مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا بہت اہم کردار ہے اپنے اقتدار کو سہارا دینے کے لیے ان تینوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کا ساتھ دیا یہاں تک کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر ایم کیو ایم کے در پر حاضری دی تھی۔ کیونکہ مصنوعی طور پر گھڑی ہوئی جماعت ہے جو از خود اردو بولنے والے مہاجروں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے۔

ایم کیو ایم کو اگر پیپلز پارٹی سے شکایت ہے تو وزارتوں اور اسمبلیوں سے استعفا کیوں نہیں دیتی؟ اور پیپلز پارٹی بھی ان سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتی کہ وہ حکومت اور اسمبلی سے استعفا دے دیں اسی وجہ سے ہمیں یہ سیاسی بیان بازی نورا کشتی لگتی ہے۔ یہ تضاد ان کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ متاثرین کی مدد کرنے کے بجائے دونوں جماعتیں حکومتی اتحاد میں ہونے کے با وجود سانحے پر سیاست کھیل رہی ہیں، جبکہ متاثرین کو جانی اور مالی نقصانات کے ازالے کی ضرورت ہے۔ بجائے الزام تراشی کے شہر میں حفاظتی منصوبہ بندی ہونی چاہیے، جیسے فائر بریگیڈ کے انتظامات کو جدید طرز پر بڑھانا چاہیے، کسی ناگہانی آفت کے وقت ایمرجنسی راستوں کے کھلے رہنے کو یقینی بنانا۔ ہمارا تو ایم کیو ایم کو مشورہ ہے کہ اسمبلی اور وزارتوں سے استعفا دے، دوبارہ الیکشن لڑے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کو پسند کرتے بھی ہیں یا نہیں یا پھر وہ دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں جعل سازی کے ذریعے نشستیں حاصل کر کے پاکستان کی سیاست میں فساد پھیلاتے رہیں گے، دیانت داری کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف بھی کریں گے یا نہیں۔ ماضی کے واقعات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ایم کیو ایم نام کی جماعت دراصل دہشت گرد جماعت ہے جس پر نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں پابندی لگنی چاہیے اور اسے کالعدم ہو جانا چاہیے۔ پاکستان کی سیاست کو متاثرین کی مدد پر مرکوز کرنا چاہیے، نہ کہ بیان بازی پر۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی مصطفی کمال کے باوجود گل پلازہ ایم کی رہی ہے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے