اریجیت سنگھ کے موسیقی سے دور ہونے کے بعد ساحر علی بگا نے بھی جلد اہم فیصلے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی گلوکار اور موسیقار ساحر علی بگا نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے موسیقی کے کیریئر کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔ یہ اعلان بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے پلے بیک سنگنگ سے ریٹائرمنٹ کے حالیہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
اریجیت سنگھ کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ساحرعلی بگا نے لکھا کہ بھارتی گلوکار نے موسیقی کو ترک نہیں کیا بلکہ آزادی کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک حقیقی فنکار کبھی ہار نہیں مانتا بلکہ آہستہ آہستہ ترقی اور خود کو بہتر بنانے کی طرف بڑھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کا پلے بیک سنگنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ایک فنکار برسوں صنعت کی تعمیر میں مدد کرتا ہے اور بعد میں اس سے مایوسی محسوس کرتا ہے تو یہ صورتحال دردناک ہوتی ہے تاہم ضروری فیصلے لینا لازمی ہوتا ہے۔
اپنے مستقبل کے منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ساحر علی بگا نے لکھا کہ وہ بھی جلد عوامی سطح پر ایک اہم اعلان کریں گے۔ انہوں نے اسے ایک حقیقی موسیقی کے سفر کے آغاز کے طور پر بیان کیا جو ایمانداری، آزادی اور خالص فن پر مبنی ہوگا۔ گلوکار نے مداحوں سے کہا کہ جڑے رہیں کیونکہ اگلا باب جلد شروع ہونے والا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اپنے پیغام میں اریجیت سنگھ نے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بطور پلے بیک سنگر کوئی نیا پراجیکٹ قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے لکھا کہ وہ اس سفر کو یہیں ختم کر رہے ہیں اور یہ ان کے لیے ایک شاندار اور یادگار سفر رہا۔ اریجیت سنگھ کے اس اچانک اعلان نے ان کے چاہنے والوں کو حیران کر دیا ہے جو طویل عرصے سے ان کی آواز سے جڑے ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اریجیت سنگھ ساحر علی بگا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اریجیت سنگھ ساحر علی بگا اریجیت سنگھ کے ساحر علی بگا علی بگا نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز