Juraat:
2026-07-24@09:59:00 GMT

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ

سیموئیل بیکٹ کا Waiting for Godot وہ ڈرامہ ہے جو بظاہر کچھ بھی نہ ہونے کی کہانی ہے مگر درحقیقت یہ انسانی وجود کے سب سے گہرے سوالات کو چھیڑتا ہے۔
یہ ڈرامہ دو کرداروں، ولادیمیر اور ایسٹراگون، کے گرد گھومتا ہے جو ایک ویران سڑک پر ایک درخت کے نیچے کسی”گوڈو”کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ گوڈو کون ہے، کب آئے گا یا آئے گا بھی یا نہیں، مگر اس کے باوجود انتظار جاری رہتا ہے۔ یہی انتظار اس ڈرامے کا مرکزی استعارہ ہے، جو انسانی زندگی کی اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جس میں انسان کسی نجات دہندہ، کسی معنی، کسی وعدے یا کسی معجزے کے انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے۔یہ ڈرامہ وجودیت (Existentialism) کے فلسفے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ژاں پال سارتر کہتا ہے کہ”وجود ماہیت پر مقدم ہے”، یعنی انسان پہلے موجود ہوتا ہے، اس کے بعد وہ خود اپنے معنی تخلیق کرتا ہے۔ مگر ویٹنگ فار گوڈو میں المیہ یہ ہے کہ کردار اپنے معنی خود تخلیق کرنے کے بجائے گوڈو کے آنے کا انتظار کرتے ہیں، گویا وہ اپنی ذمہ داری کسی اور کے کاندھوں پر ڈال چکے ہوں۔ یہ انتظار دراصل آزادی سے فرار ہے، کیونکہ آزادی ذمہ داری مانگتی ہے، اور ذمہ داری انسان کو خوفزدہ کرتی ہے۔
البرٹ کامیو نےAbsurd کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسان معنی تلاش کرتا ہے مگر کائنات خاموش رہتی ہے۔ ویٹنگ فار گوڈو اسی خاموش کائنات کی علامت ہے۔ گوڈو کبھی نہیں آتا، جیسے کائنات کبھی ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیتی۔ اس کے باوجود ولادیمیر اور ایسٹراگون جینے کا کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرتے رہتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، جھگڑتے ہیں، ہنستے ہیں، روتے ہیں، تاکہ وقت گزر سکے۔ کامیو کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ زندگی بے معنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس بے معنویت کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ مگر بیکٹ کے کردار اس بے معنویت کو قبول کرنے کے بجائے انتظار کی لت میں مبتلا رہتے ہیں۔نطشے کے فلسفے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ویٹنگ فار گوڈو”خدا کی موت”کے بعد کی دنیا کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ نطشے نے کہا تھا کہ”خدا مر چکا ہے اور ہم نے اسے مارا ہے”، یعنی روایتی اقدار اور حتمی سچائیاں ختم ہو چکی ہیں۔ گوڈو اس مردہ خدا کی علامت بھی بن سکتا ہے، جس کے آنے کی امید تو باقی ہے مگر حقیقت میں وہ کبھی نہیں آتا۔ انسان پرانی اقدار کے سہارے جینے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ اقدار اب زندگی کو معنی دینے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔ڈرامے میں پوزو اور لکی کے کردار طاقت اور غلامی کی علامت ہیں۔ پوزو ظالم آقا ہے اور لکی خاموش غلام، جو صرف حکم پر بولتا ہے۔ یہ تعلق ہیگل کے”آقا اور غلام” کے تصور کی یاد دلاتا ہے، جہاں طاقت کا رشتہ دونوں کو غیر انسانی بنا دیتا ہے۔ پوزو بھی اندھا ہو جاتا ہے اور لکی بھی گونگا، گویا ظلم اور اطاعت دونوں آخرکار انسانیت کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں جدید سماج کی یاد دلاتا ہے جہاں طاقتور اور محکوم دونوں اپنی اپنی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں۔ویٹنگ فار گوڈو محض فلسفیانہ ڈرامہ نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی استعارہ بھی ہے۔ یہ ان قوموں اور معاشروں کی کہانی ہے جو کسی مسیحا، کسی انقلاب، کسی نجات دہندہ کے انتظار میں اپنی اجتماعی ذمہ داری سے غافل ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر ناکامی کے بعد کہتے ہیں کہ ”کل کچھ بدل جائے گا”، مگر کل کبھی نہیں آتا۔ یہ انتظار جمود کو جنم دیتا ہے، اور جمود زوال کوبیکٹ کا اسلوب بھی معنی خیز ہے۔ مکالمے دہرائے جاتے ہیں، حالات بدلتے نہیں، دن رات کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہ تکرار اس بات کی علامت ہے کہ جب زندگی میں مقصد نہ ہو تو وقت بھی ایک دائرہ بن جاتا ہے، جو آگے بڑھنے کے بجائے خود کو دہراتا رہتا ہے۔
ویٹنگ فار گوڈو ہمیں یہ تلخ سوال دیتا ہے کہ کیا ہم بھی اپنی زندگی کسی گوڈو کے انتظار میں تو نہیں گزار رہے کیا ہم نے اپنے فیصلے، اپنی آزادی، اپنی ذمہ داری کسی فرضی امید کے حوالے تو نہیں کر دی بیکٹ ہمیں کوئی جواب نہیں دیتا، کیونکہ یہ ڈرامہ جواب دینے کے لیے نہیں بلکہ سوال جگانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ شاید یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ یہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے، اور اس آئینے میں ہمیں اپنا چہرہ خود پہچاننا پڑتا ہے۔ویٹنگ فار گوڈو محض بیسویں صدی کا ایک ڈرامہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانی تاریخ کے اجتماعی شعور کا نچوڑ معلوم ہوتا ہے۔ اگر انسان کی تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو وہ ہمیشہ کسی نہ کسی”گوڈو”کے انتظار میں گزری ہے۔ قدیم انسان نے بارش، فصل اور حفاظت کے لیے دیوتاؤں کا انتظار کیا۔ افلاطون کی مثالی ریاست بھی دراصل ایک ایسے کامل نظام کا انتظار تھی جو کبھی عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔ ارسطو نے انسان کو”سیاسی حیوان”کہا، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ یہ سیاسی حیوان زیادہ تر کسی مثالی حکمران یا عادل بادشاہ کے انتظار میں ہی جیتا رہا۔ مذہبی تاریخ میں یہ انتظار اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ یہودی روایت میں مسیحا کا انتظار، عیسائیت میں مسیح کی دوسری آمد، اسلام میں مہدی اور مسیح کا تصوریہ سب انسانی تاریخ کے وہ لمحات ہیں جہاں انسان نے اپنی موجودہ ناکامیوں کا بوجھ مستقبل کی کسی نجات دہندہ ہستی پر ڈال دیا۔ ویٹنگ فار گوڈو اسی مذہبی اور مابعد الطبیعاتی انتظار کی جدید، خاموش اور بے رحم تعبیر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بیکٹ کا گوڈو نہ آسمان سے اترتا ہے، نہ وعدہ پورا کرتا ہے، بلکہ مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتا ہے۔ یہ خاموشی دراصل جدید انسان کے روحانی خلا کی علامت ہے۔ سیاسی تاریخ میں بھی گوڈو ہر دور میں موجود رہا ہے۔ افلاطون کے فلاسفر کنگ سے لے کر مارکس کے طبقاتی انقلاب تک، اور نوآبادیاتی دور کے بعد آزادی کے خواب سے لے کر جدید ریاست کے وعدوں تک، انسان ہمیشہ کسی”کل”کے انتظار میں رہا۔ یہ ڈرامہ ہمیں دکھاتا ہے کہ اگر انسان عمل کے بجائے صرف انتظار کو اپنا مقدر بنا لے تو تاریخ بھی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔وجودی فلسفے سے پہلے بھی انسان اس کیفیت سے گزر چکا تھا، مگر اس کا شعوری اعتراف نہیں تھا۔ بدھ نے زندگی کو دکھ قرار دیا، مگر نجات کا راستہ عمل اور شعور میں بتایا۔ اسٹوئک فلسفیوں نے تقدیر کو قبول کرنے کی تعلیم دی، مگر اخلاقی ضبط کے ساتھ۔ ویٹنگ فار گوڈو ان سب سے مختلف ہے کیونکہ یہاں نہ نجات کا راستہ ہے، نہ اخلاقی حل، نہ روحانی بلندی۔ یہ جدید انسان کی وہ حالت ہے جسے مارٹن ہائیڈیگر نے ”Beingـtowardsـdeath” کہا یعنی ایک ایسی ہستی جو جانتی ہے کہ انجام موت ہے مگر پھر بھی بے سمت جیتی ہے۔ کافکا کے ناول، پِنٹر کے ڈرامے، اور جدید افسانے سب اسی انتظار، اسی بے یقینی اور اسی خاموش چیخ کے وارث نظر آتے ہیں۔ یہ ڈرامہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بعض اوقات”کچھ نہ ہونا”بھی ایک بہت بڑا واقعہ ہوتا ہے۔نفسیاتی سطح پر ویٹنگ فار گوڈو پوری انسانی تاریخ کے اجتماعی اضطراب کو عیاں کرتا ہے۔ فرائیڈ نے لاشعور کی بات کی، یونگ نے اجتماعی لاشعور کا تصور دیا، مگر بیکٹ نے اس لاشعور کو اسٹیج پر لا کھڑا کیا۔ ولادیمیر اور ایسٹراگون دراصل انسان کے دو داخلی پہلو ہیں: ایک سوچتا ہے، دوسرا بھولنا چاہتا ہے؛ ایک سوال کرتا ہے، دوسرا وقت گزارنا چاہتا ہے۔ یہی کشمکش انسانی تاریخ میں فرد اور معاشرے کے درمیان مسلسل جاری رہی ہے۔اگر انسانی تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے یا تو بغاوت کی ہے یا انتظار۔ یونانی المیوں میں بغاوت تھی، نشاةِ ثانیہ میں خودی کا اعلان، مگر جدید عہد میں تھکن ہے۔ ویٹنگ فار گوڈو اسی تھکن کی علامت ہے۔ یہ اس انسان کی کہانی ہے جو بہت کچھ دیکھ چکا ہے، بہت وعدے سن چکا ہے، اور اب صرف انتظار کرتا ہے کیونکہ عمل پر اس کا یقین ٹوٹ چکا ہے۔یوں ویٹنگ فار گوڈو پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ بھی ہے اور اس پر ایک سوالیہ نشان بھی۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر انسان نے اپنے گوڈو خود تخلیق نہ کیے، اگر اس نے معنی، انصاف اور آزادی کی ذمہ داری خود نہ اٹھائی، تو تاریخ یونہی ایک ویران سڑک پر ایک سوکھے درخت کے نیچے کھڑی رہے گی اور گوڈو کبھی نہیں آئے گا۔ پاکستان بھی ایک ملک نہیں بلکہ ایک انتظار ہے ایک ایسا طویل وقفہ جو ہم نے اپنے حال اور مستقبل کے درمیان خود پیدا کر لیا ہے یہاں لوگ زندہ نہیں رہتے بلکہ کل کے وعدے پر سانس لیتے ہیں ہم نے اپنی قومی زندگی کو ایک بنجر درخت کے نیچے لا بٹھایا ہوا ہے جہاں ہم روز کسی گوڈوٹ کا انتظار کرتے ہیں کبھی وہ نظام کہلاتا ہے کبھی انقلاب کبھی مسیحا کبھی الیکشن کبھی نیا قانون کبھی نئی حکومت کبھی نیا نعرہ مگر وہ آتا نہیں اور ہم ہر صبح یہ کہہ کر خود کو دھوکہ دیتے ہیں کہ کل ضرور آئے گا ولادیمیر اور ایسٹراگون اب اس ملک کے عام شہری ہیں جو چائے کے کھوکھے سے لے کر ٹی وی اسکرین تک ایک ہی جملہ دہراتے ہیں”بس اب سب ٹھیک ہونے والا ہے”۔ یہاں امید ایک روحانی بیماری بن چکی ہے جو انسان کو زندہ کم اور معطل زیادہ رکھتی ہے ہم اس لیے مظلوم نہیں کہ طاقت ور ہیں بلکہ اس لیے مظلوم ہیں کہ ہم نے اپنی تقدیر کو افواہوں اور وعدوں کے ہاتھ گروی رکھ دیا ہے پوزو اب وہ اشرافیہ ہے جو اختیار کو وراثت سمجھتی ہے اور لکی وہ عوام ہے جو اپنی عقل کو خدمت کے عوض خاموشی میں بدل چکی ہے جب اختیار اندھا ہوتا ہے تو قوم بھی اندھی ہو جاتی ہے اور جب عقل گر جاتی ہے تو سچ بھی گر پڑتا ہے ہمارے ہاں زبان اب سچ بولنے کے لیے نہیں بلکہ شور پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ہم بات کرتے ہیں تاکہ حقیقت سنائی نہ دے ہم نعرے لگاتے ہیں تاکہ سوال مر جائیں ہم خبریں دیکھتے ہیں تاکہ سوچ دفن ہو جائے وقت یہاں نہیں گزرتا بلکہ گھومتا ہے ہر سال نیا بجٹ آتا ہے مگر غربت وہی رہتی ہے ہر الیکشن آتا ہے مگر مایوسی وہی رہتی ہے ہر بحران آتا ہے مگر مجرم وہی رہتے ہیں بنجر درخت پر اگنے والے چند پتے ہمارے اشتہارات ہیں ہماری تقریریں ہیں ہمارے وعدے ہیں جو ہمیں یہ فریب دیتے ہیں
کہ کچھ بدل رہا ہے حالانکہ کچھ نہیں بدلتا بیکٹ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان بغاوت سے نہیں بلکہ عادت سے زندہ رہتا ہے اور پاکستان ہمیں
دکھاتا ہے کہ قومیں بھی اسی عادت سے زندہ رہتی ہیں ہم صبح اس لیے اٹھتے ہیں کہ کل بھی اٹھے تھے ہم ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ کل بھی دیے
تھے ہم ووٹ اس لیے ڈالتے ہیں کہ کل بھی ڈالے تھے ہم انتظار اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مرنے سے بہتر کوئی قومی منصوبہ نہیں گوڈوٹ نہیں آئے گا مگر ہم کل بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھے ہوں گے کیونکہ اس ملک میں نجات نہیں بلکہ انتظار ہماری آخری شناخت بن چکا ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کے انتظار میں انسانی تاریخ درخت کے نیچے کی علامت ہے اگر انسان نہیں بلکہ کا انتظار کبھی نہیں ہیں کہ کل ہیں بلکہ دیتے ہیں یہ ڈرامہ کے بجائے کرتے ہیں جاتا ہے دیتا ہے ہوتا ہے کرتا ہے اور لکی میں یہ چکا ہے اس لیے ہے اور کے لیے ہیں ہم کل بھی آئے گا بھی نہ کے بعد ہے مگر

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار