اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزارت خزانہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کا اغاز کر دیا ہے اور تمام وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ 30 مئی تک تمام بجٹ دستاویزات تےار کر لی جائیں اور بجٹ اقدامات کے حوالے سے تمام سمریز بھی کیبنٹ کی منظوری کے لیے تیار ر کی جائےں، وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے شیڈول کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس مئی کے دوسرے ہفتے میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال میں ملکی اقتصادی ترقی کے حوالے سے اعزاز و شمار کے تعین کے لیے اے پی سی سی کا اجلاس مئی کے پہلے ہفتے میں ہوگا، آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی حکمت عملی پر مبنی پیپر کی منظوری 20 اپریل تک دے دی جائے گی،، ماہ روا ںکے دوران ائندہ مالی سال کے لیے مائیکرو ایکنامک فریم ورک تیار کیا جائے گا، فروری میں وزارت خزانہ قومی اسمبلی میں ششماہی ریویو رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔ بجٹ کے اعلان کے موقع پر تنخواہوں میں ممکنہ اضافہ کے امکان کو ابھی تخمینہ میں شامل نہ کیا جائے, ڈیمانڈ ریویو کمیٹی کے اجلاس بھی جلد شروع کیے جا رہے ہیں, اے جی پی ار کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی پےسے جاری نہ کئے جائےں جہاں پر بجٹ مختص نہیں کیا گیا، تمام وزارتوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی بچتوں کو 31 مئی تکفنانس ڈوےژن کے حق میں سرنڈر کر دیں۔ وزارتوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں کوئی ایسی سکیم شامل نہ کریں جو مقررہ طریقہ کار کے مطابق منظور شدہ نہ ہو، وزارتوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ زر مبادلہ خرچ کے حوالے سے ایسے کسی آئٹم کی بیرون ملک سے خریداری کے لیے بجٹ نہ رکھےں جو پاکستان کے اندر مینوفیکچر ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار