تصاویر والی پتنگ، ’نک دا کوکا‘ گانے پر پابندی کیخلاف دائر درخوست پر اعتراض ختم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور ہائی کورٹ میں بسنت کے موقع پر پتنگوں پر تصاویر چھاپنے اور گانوں پر پابندی کے خلاف اعتراضی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے درخواست گزار وکیل کو آفس اعتراض دور کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے کہا کہ اپ پابندی کا نوٹیفیکیشن اور ضروری دستاویزات لف کریں اور ریمارکس دیے کہ آفس اعتراض دور کرنے کے بعد کیس کی سماعت ہوگی۔
افس ہائی کورٹ نے درخواست کے ناقابل سماعت ہونے پر اعتراض لگایا، درخواست کے ساتھ پابندی کا نوٹیفیکیشن اور کچھ صفحات مدہم ہیں۔
جسٹس اویس خالد نے پی ٹی ائی کے شیخ امتیاز محمود کی درخواست پر سماعت کی، شیخ امتیاز نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی۔
درخواست میں موقف اپنایا کہ کسی بھی لیڈر کی تصویر پتنگ پر چھاپنے پر پابندی عائد کی گئی، گانوں پرپابندی عائد کی گئی جن میں نک دا کوکا بھی شامل ہے، نک دا کوکا فحش گانا ہے نہ کوئی سیاسی گیت ہے۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ اس گانے کےبول میں بانی پی ٹی آئی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ، پابندی سے بسنت جیسے تہوار میں بھی سیاسی بدنیتی نظر آتی یے، ڈی سی کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن غیر قانونی ہے، عدالت تصاویر اور گانوں پر پابندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر پابندی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے