سونا 21 ہزار روپے مہنگا، پہلی بار 5 لاکھ 72 ہزار روپے فی تولہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
عالمی و مقامی تاریخ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کا نیا ریکارڈ بن گیا، ملکی تاریخ میں پہلی بار فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار 200 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا۔صرافہ بازار میں 24 قیراط فی تولہ سونا بڑھ کر پہلی بار 5 لاکھ 72ہزار862روپے کی بلند ترین سطح کو چھوگیا، 10 گرام سونے کی قیمت 18 ہزار 175 روپے بڑھ کر پہلی بار 4 لاکھ 91 ہزار 136 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ملک بھر میں24قیراط فی تولہ چاندی264روپے بڑھ کر پہلی بار 12ہزار 175 روپے کی بلند ترین سطح پر فروخت ہونے لگی، انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس سونا212 ڈالر کے بڑے اضافے سے پہلی بار 5 ہزار 505 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2 ڈالر 64 سینٹس بڑھ کر پہلی بار 117 ڈالر پر پہنچ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بڑھ کر پہلی بار فی تولہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔