سانحہ گل پلازہ: ملکی تاریخ میں پہلی بار جدید طریقوں سے 12 جاں بحق افراد کی باقیات کی شناخت
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سانحہ گل پلازہ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے 12 افراد کی باقیات جدید اور متبادل سائنسی طریقوں سے شناخت کرنے کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ یہ شناخت اینٹی مارٹم ڈیٹا، پروف آف پریزنس اور دیگر شواہد کی مدد سے ممکن بنائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے ایکسپریس سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب ڈی این اے کے علاوہ اینٹی مارٹم معلومات، موبائل فون لوکیشن، جائے حادثہ پر موجودگی کے شواہد اور پوسٹ مارٹم ڈیٹا کو باہم جوڑ کر باقیات کی شناخت کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ شناخت ہونے والوں میں نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد شامل ہیں جو شاپنگ کے لیے گل پلازہ آئے تھے، جن میں عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹا علی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سائٹ میٹروول کے رہائشی دبئی کراکری شاپ کے دو حقیقی بھائی نعمت اللہ اور عبداللہ، ان کے دو کزن یوسف خان اور گارڈن کے رہائشی صداقت اللہ، قصبہ کالونی کے رہائشی کراکری شاپ کے مالک یاسین، تین سگے بھائی خضر علی، حیدر علی اور عامر علی، جبکہ رنچور لائن کے رہائشی ابو بکر بھی شناخت شدہ افراد میں شامل ہیں۔
عامر حسن کے مطابق اینٹی مارٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی بنیاد پر شناخت کے بعد تمام 12 افراد کی باقیات لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ سانحہ گل پلازہ میں اب تک مجموعی طور پر 39 جاں بحق افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں 20 کی شناخت ڈی این اے، 12 کی اینٹی مارٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس، 6 کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناخت شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سے ابھی 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے نتائج آنا باقی ہیں، جبکہ دیگر باقیات میں ڈی این اے یا تو منفی آیا یا نمونے حاصل ہی نہیں ہو سکے، کیونکہ شدید آگ کے باعث بیشتر باقیات راکھ میں تبدیل ہو چکی تھیں۔
عامر حسن نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت ایسے حالات میں متبادل شواہد کی بنیاد پر شناخت کی اجازت ہوتی ہے، تاکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کو باعزت تدفین کے لیے حاصل کر سکیں۔ اسی اصول کے تحت جاں بحق افراد کی لوکیشن، گل پلازہ میں موجودگی، ذاتی اشیاء اور پوسٹ مارٹم معلومات کو یکجا کر کے شناخت ممکن بنائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بعض لواحقین خود اپنی دکانوں سے باقیات نکال کر لائے، جن کی موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی تصدیق کرتی تھی۔ مثال کے طور پر جاں بحق ابو بکر کے بیٹے تاج محمد خود ریسکیو ٹیم کے ساتھ موقع پر گئے اور اپنے والد کی باقیات لے کر آئے۔ تین افراد کی شناخت ویڈیو شواہد کی مدد سے بھی کی گئی۔
شناخت پروجیکٹ کے سربراہ نے مزید بتایا کہ آئندہ مرحلے میں اینٹی مارٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی بنیاد پر مزید 10 سے زائد افراد کی باقیات شناخت کر کے جلد لواحقین کے حوالے کی جائیں گی، تاکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اینٹی مارٹم ڈیٹا افراد کی باقیات پروف ا ف پریزنس سانحہ گل پلازہ گل پلازہ میں کے رہائشی ڈی این اے بتایا کہ کی شناخت
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔