خیبر پختونخوا کے زیادہ تر اضلاع میں موسم سرد، خشک اور جزوی ابرآلود رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
محکمہ موسمیات کے مطابق چترال بالائی و زیریں، دیر بالائی، سوات، شانگلہ، ایبٹ اباد میں تیز ہوا اور گرج چمک کے ساتھ بارش و برفباری کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے زیادہ تر اضلاع میں موسم سرد اور خشک بالائی پہاڑی اضلاع میں شدید سرد اور جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق چترال بالائی و زیریں، دیر بالائی، سوات، شانگلہ، ایبٹ اباد میں تیز ہوا اور گرج چمک کے ساتھ بارش و برفباری کا امکان ہے۔ کوہستان بالائی و زیریں، کولئی پلاس، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ اور کرم کے اضلاع میں بھی تیز ہواوُں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے جبکہ صوبے کے میدانی اضلاع میں چند مقامات پر دھند چھاسکتی ہے۔ صوبے میں سب سے زیادہ پاراچنار منفی 7، مالم جبہ منفی 6، کالام منفی 5، دیر بالا ،دروش چترال منفی 3 ریکارڈ ہوا۔ چترال منفی 01، پشاور، بالا کوٹ کا درجہ حرارت 3، کاکول کا ایک ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا امکان ہے اضلاع میں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔