لاہور میں گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور بچی کی لاشیں طویل اور مشکل ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد ہو چکی ہیں، تاہم اس افسوسناک واقعے پر سیاسی بیانات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے واقعے کو فیک نیوز قرار دینے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ اس سے قبل صوبائی وزیر اطلاعات بھی اسی نوعیت کا بیان دے چکی ہیں۔

ایسے وقت میں جب لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے گٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اس کے باوجود اس واقعے کو فیک نیوز قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صحافیوں کی جانب سے سوال کیے جانے پر ڈپٹی اسپیکر نے حادثے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے ایک روز قبل صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کی ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد کسی ایسے واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

تاہم بعد ازاں خاتون اور کمسن بچی کی لاشیں ملنے کے بعد صورتحال واضح ہو گئی اور حادثے کی تصدیق سامنے آ گئی۔ اس پیش رفت کے باوجود سرکاری سطح پر متضاد بیانات سامنے آنے پر عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق حکومتی مؤقف پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈپٹی اسپیکر

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن