بانی پی ٹی آئی کی بیماری کیوں چھپائی گئی؟ سہیل آفریدی کے سوالات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق صورتحال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیماری کو کیوں چھپایا گیا اور اہلِ خانہ کو بروقت کیوں آگاہ نہیں کیا گیا۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے لیڈر کو ہفتے کی رات جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت اس حد تک کیوں بگڑی کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کے ذاتی معالج کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا اور ہفتے سے اب تک بیماری کو چھپانے کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔
سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی فیملی، پارٹی رہنماؤں اور وکلاء سے ملاقات کروائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے ذاتی معالج سے علاج کروائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے ماہرین نے معائنہ کیا تھا اور معمولی طبی کارروائی کے لیے پمز اسپتال لے جانے کی تجویز دی گئی تھی۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ ماہرین کی رائے کے بعد بانیٔ پی ٹی آئی کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کے معائنے کے بعد انہیں واپس جیل لے آیا گیا۔ ان کے مطابق طبی معائنے کے دوران بانیٔ پی ٹی آئی مکمل طور پر صحت مند تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی پی ٹی ا ئی کی تھا کہ
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔